رانچی یونیورسٹی شعبۂ اردو میںمولانا ابوالکلام آزاد پر سیمینار، وی سی پروفیسر دھرمیندر کمار سنگھ سمیت علمی شخصیات کی شرکت

Aawami News Desk

رانچی:رانچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام آج ”مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات“ کے عنوان سے ایک جامع اور پروقار سیمینار منعقد ہوا۔ اس علمی و ادبی نشست میں اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی متعدد ممتاز شخصیات، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے محفل کا وقار اور علمی فضا مزید روشن ہوگئی۔اس خصوصی سیمینار کے مہمانِ خصوصی رانچی یونیورسٹی کے معزز وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) دھرمیندر کمار سنگھ تھے۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطاب میں اردو زبان کی خوبصورتی، اس کی تہذیبی اہمیت اور لسانی وسعت پر مدلل انداز میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اردو محض ایک زبان نہیں، بلکہ ہندوستان کی تہذیبی ہم آہنگی، مشترکہ ورثے اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ پروفیسر سنگھ نے مولانا ابوالکلام آزاد کی گراں قدر علمی و عملی خدمات، تحریکِ آزادی میں ان کے غیر معمولی کردار اور بحیثیت پہلے وزیرِ تعلیم ان کی قومی تعلیمی پالیسیوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔پروفیسر سنگھ نے اس موقع پر اے پی جے عبدالکلام کے افکار اور تعلیمِ نو کے حوالے سے ان کی خدمات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم کی جانب مزید رغبت دلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوم کی ترقی کا دارومدار باصلاحیت اور باشعور نئی نسل پر ہے۔سیمینار میں شعبۂ اردو کے اساتذہ، محققین اور طلبہ نے مولانا آزاد کی علمی میراث، ادبی افکار، صحافتی خدمات اور قومی سطح پر ان کی فکر کے اثرات پر اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ شرکاء نے ان مقالات کو نہایت دلچسپی سے سنا اور سراہا۔ آخر میں ہونے والے سوال و جواب کے سیشن نے محفل کی فکری نشست کو مزید مؤثر اور مفید بنا دیا۔
اس موقع پر موجود صدر انجمن اسلامیہ مختار انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے جس مدرسہ اسلامیہ کے قیام کی تحریک دی تھی، اس کی ازسرنو تجدید کاری یونیورسٹی انتظامیہ کی مشاورت سے کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا آزاد کی آخری یادگار ”مولانا آزاد کالج“ کی ترقی و بحالی کیلئےخصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ سابق صدر انجمن اسلامیہ اور رکن وقف بورڈ ابرار احمد نے دو قومی نظریے کی مخالفت اور قومی یکجہتی کے موضوع پر مؤثر گفتگو پیش کی۔ ڈاکٹر سجاتا سنگھ نے عالمی صحافت میں مولانا آزاد کے خیالات کے اثرات اور ان کی اشاعت پر جامع مقالہ پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔اسی نشست میں ڈاکٹر محمد صابر کے ناول ”دیوار کے اس پار“ کا باقاعدہ رسمِ اجرا بھی وائس چانسلر پروفیسر دھرمیندر کمار سنگھ کے ہاتھوں عمل میں آیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔سیمینار میں ڈاکٹر ڈی کے سنگھ ( وائس چانسلر، رانچی یونیورسٹی)، ڈاکٹر ارچنا دوبے (ڈین ہیومینیٹیز)، ڈاکٹر دنیش ارائوں (صدر شعبہ علمِ جسمانیات )، ابرار احمد (سابق صدر انجمن اسلامیہ)، ڈاکٹر بندنا کماری، مختار احمد (صدر انجمن اسلامیہ)، سماجی کارکن مجیب قریشی، ڈاکٹر سجاتا سنگھ (سابق صدر شعبۂ تاریخ)، ڈاکٹر ابرار احمد (صدر شعبہ ریاضی)، پی کے جھا (سی ڈی سی)، ڈاکٹر پرویز حسن (صدر شعبہ علمِ نفسیات)،ڈاکٹر سید ارشد اسلم اور ڈاکٹر شکیل احمد (سابق صدور شعبۂ اردو)، ڈاکٹر آغا ظفر حسنین، ڈاکٹر غالب نشتر (جے این کالج)، ڈاکٹر عبدالباسط (گوسنر کالج)، ڈاکٹر حیدر علی، اکبر عزیز، دبیہ جیت (شعبہ بنگلہ) سمیت متعدد معزز شخصیتوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکڑوں ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات کی شرکت نے پروگرام کو ایک بڑے علمی اجتماع کی شکل دے دی۔سیمینار کی صدارت اور نظامت شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان علی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ آخر میں ڈاکٹر اعجاز احمد نے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کا اختتام دعا اور قومی ترانے کے ساتھ نہایت وقار کے ساتھ ہوا۔

Share This Article
Leave a comment