وزیراعلیٰ نے جھارکھنڈ فلائنگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا
رانچی: وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ ریاست کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے پر جھارکھنڈ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ سنتھال پرگنہ سے شروع ہونے والی ترقی کی لکیریں اب راجدھانی رانچی تک پھیل رہی ہیں۔ یہ صرف جغرافیائی وسعت نہیں بلکہ ریاست کے سماجی و اقتصادی استحکام کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جھارکھنڈ فلائنگ انسٹی ٹیوٹ” ریاست کے نوجوانوں کے خوابوں کو پرواز دینے کے ساتھ جھارکھنڈ کو ہوابازی کی تربیت کے میدان میں قومی سطح پر ایک منفرد شناخت دلائے گا۔ جس انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی تھی، وہ آج حقیقت بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ دشوم گرو شیبو سورین کے خوابوں کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ وزیراعلیٰ نے سدو-کانہو ایئرپورٹ، دمکا میں جھارکھنڈ فلائنگ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ پہلے مرحلے میں 30 پائلٹوں کو تربیت دی جائے گی، جن میں سے 15 کی پوری فیس ریاستی حکومت خود برداشت کرے گی۔ اس اقدام سے جھارکھنڈ کے نوجوانوں کو معیاری ہوابازی کی تربیت ملے گی اور وہ قومی و عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کووِڈ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ریاست نے ہزاروں مہاجرین کو ہوائی جہاز سے ملک کے مختلف حصوں سے واپس لایا تھا، آج انہی خاندانوں کے بچے پائلٹ اور ایوی ایشن انجینئر بننے کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ یہی وہ حقیقی تبدیلی ہے جو جھارکھنڈ کی نئی پرواز کی کہانی بیان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہماری حکومت جو کہتی ہے، کر کے دکھاتی ہے۔” خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت ہیڈکوارٹر سے نہیں بلکہ گاؤں سے چلتی ہے۔ "سیوا کا ادھیکار” پروگرام کے تحت افسران گاؤں کی سطح پر جاکر عوام کی شکایات سن رہے ہیں اور موقع پر ہی ان کا حل کر رہے ہیں۔ اگر کوئی افسر مقررہ مدت میں شکایات کا ازالہ نہیں کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس ہفتہ کے دوران ذات، رہائشی، آمدنی کے سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ، سماجی سلامتی پنشن اور دیگر سہولیات گاؤں میں ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ریاستی حکومت کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی پوری طرح پابند عہد ہے۔ نئی اسکیموں کے نفاذ سے کسانوں کی زندگی میں بہتری آئے گی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مختلف محکموں کے 190.647 کروڑ روپے کے 12 اسکیموں کا افتتاح اور 123.48 کروڑ روپے کے 14 اسکیموں کی سنگِ بنیاد رکھی۔ساتھ ہی 23 مستفیدین میں مختلف اثاثے بھی تقسیم کیے گئے، جن میں وہیل چیئر، موٹر ٹرائی سائیکل، موٹر سائیکل، منی میڈیکل یونٹ، بس، جے یو این ہاسٹل، اور مالی امداد شامل ہے۔


