رانچی: جھارکھنڈ میں نومبر کے آخر تک آتے آتے شدید سردی نے زور پکڑ لیا ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے گڑھوا، پلامو، چترا، ہزاری باغ، رام گڑھ، رانچی،کھونٹی، سمڈیگا، گملا، لوہر دگا اور لاتیہار اضلاع میں سرد لہر کا یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ ان اضلاع میں درجہ حرارت دن اور رات دونوں وقت معمول سے 3 سے 5 ڈگری کم رہنے کا اندازہ ہے، جس سے صبح و شام کا وقت انتہائی سرد اور کپکپاہٹ بھرا ہے۔ سمڈیگا میں کم سے کم درجہ حرارت برفیلی ہواؤں کے سبب 5 ڈگری سیلسیس تک گر گیا ہے، جو ہماچل پردیش کی سردی کو ٹکر دے رہا ہے۔کھونٹی اور لوہر دگا میں بھی کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری کے آس پاس درج ہو رہا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق، ہمالیہ سے آنے والی سرد ہواو ں کا اثر جھارکھنڈ کے میدانی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے باعث کئی اضلاع میں درجہ حرارت میں گراوٹ آئی ہے اور تیز سرد لہر چل رہی ہے۔ رانچی میں بھی درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری کم ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے لوگوں کو صبح و شام میں کپکپی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست کے باقی اضلاع میں جہاں پارہ 13 سے 14 ڈگری کے آس پاس ہے، وہاں کچھ راحت مل سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر سردی کا زور صاف دکھ رہا ہے۔نیشنل ہیلتھ مشن نے سردی سے بچاو کے لئے ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے گرم کپڑے پہننے، مناسب غذا لینے اور گھر سے باہر نکلتے وقت احتیاط برتنے کو کہا ہے۔ سرد لہر کے دوران فلو، نزلہ-کھانسی اور زکام کی علامات محسوس ہونے پر فوراً مقامی صحت مرکز یا ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خاص طور پر بزرگوں اور چھوٹے بچوں کو سردی سے بچانے کے لئے خصوصی دھیان دینا ضروری ہے۔ اگر سردی کے سبب بیہوشی یا ہوش میں کمی جیسے سنگین علامات دکھیں تو فوراً طبی مدد لینا ضروری ہے۔موسم سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ہمالیہ میں حال ہی میں ہوئی بھاری برف باری کے باعث وہاں کا درجہ حرارت گرا ہے اور وہ برفیلی ہوائیں اب جھارکھنڈ تک پہنچ رہی ہیں۔ یہ ہوائیں اگلے کچھ دنوں تک جاری رہ سکتی ہیں، جس سے سردی مزید شدید ہو سکتی ہے۔ فی الحال بارش یا بادلوں کا امکان نہیں ہے، جس سے سردی کے موسم میں راحت کے لئے کسی قدرتی سبب کا انتظار مشکل دکھتا ہے۔ اس لئے لوگوں کو خود ہی پوری احتیاط برتنی ہوگی۔


