Take a fresh look at your lifestyle.

حد خط عبور نہ کریں،سپریم کورٹ کا پولس کو پھٹکار

کوکولکاتا،29،اکتوبر: سپریم کورٹ نے بنگال حکومت کی کولکاتا پولس کی شدید مذمت کرتے ہوئے سرزنش کی۔ساتھ ہی کہا ک عام شہریوں پر تشدد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ، ‘لائن کو عبور نہ کریں، ہندستان کو آزاد ملک رہنے دیں۔ ہندستان میں ہر ایک کو بولنے کی آزادی ہے اور ہم آزاد تقریر کے تحفظ کےلئے بطور سپریم کورٹ ہیں۔ آئین نے اس وجہ سے سپریم کورٹ تشکیل دی کہ ریاستیںعام شہریوں کو ہراساں نہ کریں۔واضح ہو کہ دہلی کی رہائشی خاتون کا معاملہ ہے جسے کولکاتا پولس نے مبینہ طور پر قابل اعتراض فیس بک پوسٹ کے لئے طلب کیا تھا۔ ایسا ہی ہوا کہ اس خاتون نے کورونا وبا کے درمیان کولکاتا کے راجہ بازار کے علاقے کی ایک تصویر شیئر کی تھی اور لاک ڈاو¿ن قوانین کے سلسلے میں ممتا حکومت کی نرمی پر سوال اٹھایا تھا۔ خاتون کی عمر 29 سال ہے اور ان کا نام روشنی بسواس ہے۔ انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایڈووکیٹ مہیش جیٹھ ملانی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ایسی صورتحال میں ہائی کورٹ نے مذکورہ فیس بک پوسٹ پر خاتون کو کولکاتا پولس کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا ، جس میں اس نے راجہ بازار کے علاقے میں لاک ڈاو¿ن ختم کرنے پر ممتا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب حال ہی میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ عورت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ حکومت کے خلاف لکھنے کی جرا¿ت کیسے کرتے ہیں ، ہم اسے سمن کے نام پر ملک کے کسی بھی کونے سے گھسیٹ سکتے ہیں۔لکاتا،29،اکتوبر: سپریم کورٹ نے بنگال حکومت کی کولکاتا پولس کی شدید مذمت کرتے ہوئے سرزنش کی۔ساتھ ہی کہا ک عام شہریوں پر تشدد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ، ‘لائن کو عبور نہ کریں، ہندستان کو آزاد ملک رہنے دیں۔ ہندستان میں ہر ایک کو بولنے کی آزادی ہے اور ہم آزاد تقریر کے تحفظ کےلئے بطور سپریم کورٹ ہیں۔ آئین نے اس وجہ سے سپریم کورٹ تشکیل دی کہ ریاستیںعام شہریوں کو ہراساں نہ کریں۔واضح ہو کہ دہلی کی رہائشی خاتون کا معاملہ ہے جسے کولکاتا پولس نے مبینہ طور پر قابل اعتراض فیس بک پوسٹ کے لئے طلب کیا تھا۔ ایسا ہی ہوا کہ اس خاتون نے کورونا وبا کے درمیان کولکاتا کے راجہ بازار کے علاقے کی ایک تصویر شیئر کی تھی اور لاک ڈاو¿ن قوانین کے سلسلے میں ممتا حکومت کی نرمی پر سوال اٹھایا تھا۔ خاتون کی عمر 29 سال ہے اور ان کا نام روشنی بسواس ہے۔ انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایڈووکیٹ مہیش جیٹھ ملانی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ایسی صورتحال میں ہائی کورٹ نے مذکورہ فیس بک پوسٹ پر خاتون کو کولکاتا پولس کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا ، جس میں اس نے راجہ بازار کے علاقے میں لاک ڈاو¿ن ختم کرنے پر ممتا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب حال ہی میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ عورت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ حکومت کے خلاف لکھنے کی جرا¿ت کیسے کرتے ہیں ، ہم اسے سمن کے نام پر ملک کے کسی بھی کونے سے گھسیٹ سکتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.