Take a fresh look at your lifestyle.

120سالہ پوش میلہ امسال منسوخ:وشو بھارتی

0

کولکاتا،10جولائی: وشوا بھارتی یونیورسٹی(شانتی نکیتن) کا پوش میلہ ، جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ سے چل رہا ہے مگر چند ناگزیر حالات کی بناءپر اسے منسوخ کیا جا رہا ہے۔ یہ 120 سالہ قدیم میلہ ہر سال دسمبر میں لگایا جاتاہے۔ ان 120 برسوں میں پوش میلہ صرف 1943 اور 1945 میں نہیں لگا تھاکیونکہ1943 میں خشک سالی اور 1945 میں دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی۔سنٹرل یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ تاجروں کے ساتھ جھڑپوں ، مغربی بنگال آلودگی کنٹرول بورڈ کی طرف سے عائد جرمانے اور نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے رہنما اصولوں کی تعمیل کرنے پر پولس شکایات کے الزام پرقدم اٹھایا گیا ہے۔ کونسل نے کہا کہ اس پروگرام کے انعقاد میں انھیں گذشتہ دو برسوںکے کافی تجربات تھے۔ لہٰذا ہم نے ایسا قدم اٹھایا ہے۔ان وجوہات کی بناپر میلہ رد کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے پوش میلہ تنازعات کے سلسلے میں قانونی معاملے میں لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں۔ یونیورسٹی میں میلے کی وجہ سے تعلیم بھی درہم برہم ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی کی درجہ بندی 37 تھی جو 2020 میں گر کر 50 ویں نمبر پر آگئی ہے۔ یونیورسٹی کو این اے سی میں B + گریڈ ملا ، جو کبھی نہیں ہوا تھا۔ یونیورسٹی نے اس بارے میں ایک خط لکھ کر HRD وزارت اور پروکیورمنٹ منسٹر کو آگاہ کیا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ پولس نے دو دن قبل تفتیش کےلئے شانتینکٹن کو ایک خط بھیجا تھا۔ یہ خط دسمبر 2019 میں منعقد ہونے والے پوش میلہ کے بارے میں تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چار روزہ میلہ ختم ہونے کے بعد لوگوں کو زبردستی دکانیں خالی کرالی گئیں۔ اس بارے میں مقامی تاجروں نے احتجاج کیا۔ پولس حکام ، یونیورسٹی کے عہدیداروں اور یہاں تک کہ وی سی کے خلاف بھی شکایات کی گئیں۔این جی ٹی نے میلہ انتظامیہ سے میلہ میں صرف آرٹ ، دستکاری ، روایتی دیہی دستکاری ، نمائش اور ادب کی فروخت تک ہی محدود رکھنے کا مطالبہ کیا۔ این جی ٹی نے یونیورسٹی پر 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ 7 جنوری 2020 کو یونیورسٹی نے این جی ٹی کے احکامات پر عمل نہ کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث میلے کو 10 سے 12 دن تک جنریٹروں پر چلنا پڑا ، جس کی وجہ سے آلودگی پھیل گئی۔ذہن نشیں رہے کہ اسی تناظر میں اب بسنت اُتسو،پورنیما اور ڈول کے علاوہ پوش میلے کو رد کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔واضح رہے کہ ربندر ناتھ ٹیگور کے والد مہیشی دیویندر ناتھ ٹیگور نے 1894 میں پہلی بار پوش میلہ کا اہتمام کیا۔ نوبل انعام یافتہ ربندر ناتھ ٹیگور کی قائم شدہ یونیورسٹی نے 1951 سے میلے کا انعقاد شروع کیا۔ ہزاروں افراد اس ریاست اور ملک و بیرون ملک سے پہنچتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس علاقے کی نازک ماحولیات پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش کا آغاز ہوگیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.