Take a fresh look at your lifestyle.

اپریل سے کن اقتصادی سرگرمیوں کو ملے گی چھوٹ

20 APRIL SE LOCKDOWN ME KUCH RAHAT

0

ئی دہلی: سرکار نے کو رونا وائرس کی وجہ سے3 مئی تک کے لیے لگائے لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلےکے لیے بدھ کو نئے احکامات  جاری کرتے ہوئے اس مدت میں سبھی طرح کے پبلک ٹرانسپورٹ  اور عوامی مقامات  کو کھولنے پر روک لگائی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے  جاری احکاما ت کے مطابق، عوام کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ چنندہ سرگرمیوں  کو 20 اپریل سے چالو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ راحتیں ریاست/یونین ٹریٹر ی  سرکاروں یا ضلع انتظامیہ کے ذریعےہ موجودہ احکامات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے دی جائیں گی۔

سرکار نے اس دوران سبھی طرح کی کھیتی  اور باغبانی کی سرگرمیوں کو چھوٹ دی ہے۔ یہ چھوٹ ماہی پروری اور پولٹری فارم کے لیے بھی رہیں گی۔سوشل ڈسٹنسنگ اور حفاظتی آلات  کو پہن کر منریگا مزدوروں  کو بھی کام کرنے کی چھوٹ ملے گی۔ سرکار نے کہا کہ منریگا کے تحت سینچائی اور آبی تحفظ  کے کام کو ترجیح دی جائےگی۔

اس کے ساتھ ہی دیہی  علاقوں میں کام کرنے والے چنندہ کام  کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ حالانکہ، یہ ڈرگس، فارماسوٹیکلس، میڈیکل ڈیوائس اور ان کے کچے پروڈکشن  سمیت ضروری سامانوں کی پروڈکشن  اکائیوں تک محدود ہیں۔وہیں، فوڈ پروسسنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر بنانے والوں کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

حالانکہ، لوگوں کی بین ریاستی ، بین ضلعی آمدورفت، میٹرو، بس خدمات پر تین مئی تک روک جاری رہےگی۔اس دوران تعلیمی اداروں ، کوچنگ سینٹر، گھریلو اور انٹرنیشنل ہوائی آمدورفت اور ٹرین خدمات بھی رد  رہیں گی۔سنیما گھر، مالس، شاپنگ کمپلیکس، جم ، کھیل کیمپس، سوئمنگ پول، بار جیسےعوامی مقامت  بھی تین مئی تک بند رہیں گے۔

نئے احکامات کے مطابق، سبھی سماجی ، سیاسی ، کھیل، مذہبی تقاریب ، مذہبی مقامات، عبادت گاہیں  تین مئی تک عوام کے لیے بند رہیں گے۔خاص طور  سے چھوٹ دی گئی سرگرمیوں  کے علاوہ دوسرے سبھی کاروبار اورکامرشیل سرگرمیاں ، ہاسپٹلٹی سروسز بند رہیں گی۔ وہیں، ٹیکسی و کیب خدمات  بھی بند رہیں گی۔

اس کے ساتھ ہی کسی بھی آخری رسومات کی ادائیگی  میں 20 سے زیادہ  لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی رہےگی۔غورطلب ہے کہ وزیر اعظم  نریندر مودی نے منگل کو لاک ڈاؤن کوتین مئی تک بڑھانے کا اعلان  کیا تھا۔

ریاست یایونین ٹریٹری سرکاریں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کے تحت جاری ان احکامات  کونافذ کرنے سےکسی بھی طرح سے انکار نہیں کر سکتی ہیں۔ حالانکہ، مقامی علاقوں کی ضروریات  کو دھیان میں رکھتے ہوئے وہ  ان احکامات  سے بھی سخت اصول نافذ کر سکتی ہیں۔

اس ملک گیر بند کا مقصد کو رونا وائرس پر لگام لگانا ہے جس کی وجہ سے ملک  میں ابھی تک 370 سے زیادہ  لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور 11000 سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.