Take a fresh look at your lifestyle.

بی جے پی نے قبائلیوں کی ترقی کےلئے کچھ نہیں کیا: ادھیر رنجن چودھری

0

کولکاتا،6نومبر: کانگریس کی بنگال پردیشکے صدر ادھیر رنجن چودھری نے ،2021 کے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کی طرف سے قبائلیوں کو خوش کرنے کی کوششوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ”بھگوا جماعت نے معاشرے کے اس حصے کو ترقی دینے کےلئے کچھ نہیں کیا ہے اور اب وہ اس کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ساری تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں“۔ چودھری ریاست کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے جنوبی بنگال میں ایک قبائلی گھرانے کے گھر جانے کا ذکر کررہے تھے۔بی جے پی کے سینئر رہنما نے بی جے پی کے قبائلی کارکن کے گھر بانکوڑہ ضلع کے چترڈیہ گاو¿ں میں لنچ کیا۔ چودھری نے کہا کہ بھگوا جماعت نے معاشرے کے اس حصے کی ترقی کےلئے کچھ نہیں کیا اور اب وہ ان کو منوانے کےلئے مختلف حربے اپنا رہی ہے۔ در حقیقت ، بی جے پی کی تفرقہ انگیز سیاست کا یہ حربہ مغربی بنگال میں کام نہیں کرے گا۔ انہوں نے ووٹ بینک کےلئے مغربی بنگال میں ’مسابقتی فرقہ واریت‘کےلئے بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔انہوں نے کہا ،”بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں دلتوں ، اقلیتوں اور خواتین پر مظالم کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا اور انتظامیہ کی جانب سے مجرموں کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے“۔ چودھری نے کہا ”شاہ اسے ثابت کرنے کےلئے بے چین ہے متوا جیسی پسماندہ برادریوں سے ان کی محبت ہماری دیدی (ممتا بنرجی) سے کہیں زیادہ ہے“۔بنرجی نے متوا کےلئے ترقیاتی بورڈ کا اعلان کیا تھا اور اس کےلئے 10 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ کانگریس قائد نے پوچھا کہ ریاست کے مختلف حصوں میں رہنے والے متوابرادری کے لاکھوں روپے کے دس کروڑ روپے کا کیا ہوگا؟،انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں ہی مغربی بنگال کو”شمولیت کے بجائے ذات پات کے مخالف راستے“پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ”ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں ذات پات ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسی ریاستوں میں 30 سے زیادہ ذاتیں ہیں۔ یہاں مغربی بنگال میں سات سے زیادہ ذاتیں معلوم نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں کس ذات سے ہوں یا میں آپ کی ذات کے بارے میں پوچھتا ہوں؟“۔شمالی ہندوستان میں ذات پات کا نظام وسیع ہے اور اب اسے ترقی پسند بنگال میں بھی درآمد کیا جارہا ہے۔ ”پریس کانفرنس سے قبل چودھری یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں دھرنے کی قیادت کرتے تھے۔ ملک میں دلتوں اور خواتین پر مبینہ حملوں کےخلاف مظاہرے کیے گئے“۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.