Take a fresh look at your lifestyle.

کولکاتا کے 20 فیصد لوگوں میں اینٹی باڈی بننے کے آثار

کولکاتا،25جولائی: بنگال میں کرونا کیسوں کی تیزی سے بڑھتے شرح کے ساتھ لوگوں کے جسم میں اینٹی باڈی بھی تیار ہورہی ہے۔ کولکاتا اور ہوڑہ کے 20 فیصد لوگوں میں اینٹی باڈی پایا گیا ہے جو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مثبت پیغام دے رہا ہے۔ ملک کی ایک نجی لیب کی رپورٹ کے مطابق میٹروپولیٹن میں 20 فیصد افراد کے جسم میں اینٹی باڈیز بنائی گئی ہیں۔لیبارٹری کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ اعداد و شمار 2-3 فیصد آگے پیچھے ہوسکتے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں تبدیلی کم ہے بڑے شہروں میں زیادہ۔ انفیکشن زیادہ ہونے کی وجہ سے اموات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔مزید اینٹی باڈی بھی ہے۔ ہندستان کی بڑی لیب تھاو رو کیر کی رپورٹ کے مطابق 300 شہروں سے 75 ہزار نمونوں کی بنیاد پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہندستانیوں کے جسم میں 15 فیصد اینٹی باڈی تشکیل پا گئی ہیں۔ 15 فیصد یا 18 کروڑ ہندستانی کے جسم میں اینٹی باڈیوں کو کرونا سے لڑنے کےلئے بنایا گیا ہے۔سب سے زیادہ کرونا کیسز والے شہروں میں سب سے زیادہ اینٹی باڈیز موصول ہوئی ہیں۔واضح ہو کہ ممبئی سے لئے گئے نمونوں میں 27 فیصد اینٹی باڈی مثبت پایا گیا۔دہلی میں 34 فیصد پٹنہ میں 18 فیصد بنگلور میں 15 فیصد حیدرآباد میں 21 فیصد چنئی میں 30 فیصد کولکاتا میں 20 فیصد احمد آباد میں 18 فیصد کی لوگوں کے جسم میں اینٹی باڈیز پائی گئیں۔ اینٹی باڈی کیا ہے؟اس کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی شخص کرونا مریض بن جاتا ہے تو وائرس سے لڑنے کےلئے اس کے جسم میں اینٹی باڈیز تیار کی جاتی ہیں۔ کرونا وائرس ان کی امیونولوجیکل صلاحیت کے مطابق مختلف لوگوں میں مختلف علامات ظاہر کرتا ہے۔اینٹی باڈی سیکوریٹی گارڈ کی طرح ہے۔جیسے ہی جسم میں کرونا وائرس پہنچتا ہے سیکوریٹی گارڈ ایک ساتھ جمع ہوتا ہے اور وائرس کو شکست دیتا ہے اور اسے جسم سے نکال دیتا ہے۔اگر اینٹی باڈیوں کو دیکھا جائے تو یہ رپورٹ مثبت ہے اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو ماضی میں کرونا پڑا ہے۔ اگر کوئی اینٹی باڈی نہیں ہے تو رپورٹ منفی ہے جس کا مطلب ہے کہ کرونا واقع نہیں ہوا ہے۔ کچھ معاملات میں یہ بھی ہوتا ہے کہ نمونہ دینے والے شخص نے کرونا تیار کرلیا ہے لیکن اس کے جسم میں اینٹی باڈیز نہیں ہیں۔ایسے معاملات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.