Take a fresh look at your lifestyle.

ممتا حکومت بتائے بنگال میں صنعت کار سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں کیوں:انوراگ ٹھاکر

0

کولکاتا ،5،جنوری: مرکزی وزیرانوراگ ٹھاکر نے کہاکہ بنگال حکومت کو جواب دینا چاہئے کہ کوئی کاروباری شخص ریاست میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرنا چاہتا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ اور کارپوریٹ انوراگ ٹھاکر نے بنگال کی ترنمول کانگریس حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو جواب دینا چاہئے کہ تاجر کیوں بنگال میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاتے ہیں؟ کولکاتہ میں براہ راست ٹیکس پیشہ ور افراد کے ذریعہ منعقدہ ایک پروگرام میں ، ٹھاکر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بنگال کا فیصلہ کریں۔ ٹھاکر نے کہا بنگال حکومت کو کچھ سوالات کے جوابات دینے چاہئے۔ یہ کیوں ہے کہ کاروباری ریاست میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاتے ہیں؟ کیا کارپوریٹ کو بغیر کسی پریشانی کے کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی کےلئے ، اسے مرکز کے ساتھ صف بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کےلئے ریاست کو اپنی صلاحیتوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے۔ وزیر نے کہا کہ بنگال متعدد ریاستوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے اور سرفہرست دو ریاستوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ بنگال کے دانشوروں اور صنعتکاروں کو اس سلسلے میں فیصلہ لینا پڑے گا۔ ذہن نشیں رہے کہ اس سال بنگال میں اسمبلی انتخابات اپریل – مئی میں ہوں گے۔ ٹھاکر کا اشارہ کہیں انتخابات کی طرف تھا اور اس کے ذریعے انہوں نے بنگال کے عوام سے تبدیلی کی اپیل کی۔بنگال کو ملک کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہوئے ٹھاکر نے پوچھا کہ کیا مرکزی وزیر کا ریاست کا دورہ کرنا جرم ہے؟ کولکاتا کے دورے پر آنے والے ٹھاکر نے یہاں نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بنگال آنے والے ہندستانی حکومت کے وزیر کو بیرونی شخص کہا جاتا ہے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس جگہ کے کون سے لوگ اندرونی سمجھے جاتے ہیں؟” ٹھاکر زیر علاج بی سی سی آئی کے صدر سوربھ گنگولی کی عیادت کےلئے کولکاتا کے نجی اسپتال میں گئے اور ان سے ملاقات کی اور جلد ہی ان کی صحت کی تمنا کی۔انہوں نے کہا کہ بنگال نے کئی شعبوں میں ملک کو انوکھا ہنر دیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.