Take a fresh look at your lifestyle.

بی جے پی کی اقلیتی مورچہ کی اہمیت محض نام تک محدود لیڈروں کی بھرمار پھر بھی 37فیصد آبادی نظرانداز

کولکاتا12اکتوبر : یہ برسوں پرانی بات ہے کہ اقلیتوں کو جتنا بھی نظر انداز کیا گیااسی اقلیتی طبقہ نے اتنی ہی شدت سے بڑے بڑے تخت و تاج کو پلٹ کر رکھ دیا۔ اتنا ہی نہیں اقلیتوں کو حاشیہ پر رکھنے والی جماعتوں کا زوال بھی اس طبقہ کی وجہ سے ہی ہواہے۔اب پھر اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کی سزا کہیں ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی نہ بھگتنا پڑے۔ ویسے تو بی جے پی نے مائناریٹی مورچہ کی تشکیل تو دے دی مگر اس کی حالت مردہ کر دی ہے یعنی کہ اس ونگ کو کبھی بھی حرکت میں نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی بھگوا جماعت نے کبھی اقلیتوں کے تعلق سے کچھ کرنے کا کبھی کوئی منصوبہ بنایا ہو۔ مغربی بنگال پر حکومت کرنے کی خواہاں بی جے پی کو شاید یہ نہیں پتہ ہے کہ یہاں اقلیتی طبقہ ہی حکمراں جماعت کا تعین کرتی ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی اقلیتی سیل کو بالائے طاق رکھ کر اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ بنگال اسمبلی الیکشن میں فتح کا پرچم لہرانے میں کامیاب ہوجائے گی تو یہ اس کی بھول ہے۔ بی جے پی کے ریاستی لیڈروں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ 37فیصد سے زائد کی آبادی یہاں اقلیتوں کی ہے۔ اقلیتوں میں مسلم طبقہ کی آبادی ریاست میں 30فیصد ہے اور بی جے پی مائناریٹی مورچہ میں بشیر احمد جو کہ نائب صدر ہیں ان کے علاوہ ماخوذاخاتون اور نازیہ الہی خان جیسی فعال لیڈر بھی بی جے پی اقلیتی مورچہ میں موجود ہیں پھر بھی بی جے پی نے اپنی سب سے اہم ونگ اقلیتی مورچہ کو معذور بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب اس میں دوبارہ جان ڈالنے کے لئے پارٹی اعلی قیادت کو بڑی مشقت کر نی پڑے گی۔
بی جے پی کا اپنے مائناریٹی مورچہ میں دوبارہ جان ڈالنے کے لئے موجودہ لیڈروں کو اختیارات دینی ہوگی جو کہ پارٹی کی ایسی سوچ ہی نہیں ہے۔ ہندو توا پر مر مٹنے والی بھگوا جماعت کو اقلیتوں سے کیا مطلب ہے جس کا تازہ ثبوت اتر پردیش اور بہار ہے۔ وہاں اقتدار میں رہنے کے باوجود بی جے پی اقلیتی لیڈروں کو اور اقلیتی مورچہ کو مردہ بناکر انہیں مردہ گھر کی زینت بنائے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں میں اقلیتوں کی ترقی تو دورکی بات ہے ان کو ان کا بنیادی حق بھی ملنا دشوار کن عمل ہے۔ مرکز میں قابض ہوتے ہوئے بھی بی جے پی کی دور حکومت والی ریاستوں کی حالت بد سے بدتر ہے۔ سرکاری اسکیمیں سرد خانے کی زینت بن رہی ہیں۔ مگر بنگال میں اس فارمولہ پر عمل بھگوا جماعت کو کہیں مہنگا نہ پڑ جائے۔یہاں کے اقلیتی طبقہ پوری دنیا کے لئے مثالی حیثیت رکھتے ہیں خواہ وہ رضوان الرحمن معاملہ ہو یا تسلیمہ نسرین کو ملک بدر کا معاملہ ہو۔ یہاں کے اقلیتوں نے ہر بار اپنی اتحاد ، طاقت اور گرج دار آواز سے بڑی بڑی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہاں کے اقلیتوں کو سرکاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ اچھا رہنما بھی چاہئے۔ جو کہ بی جے پی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ورنہ اقلیتی مورچہ کو فعال بنانے کے بجائے الٹا اسے مردہ خانے میں نہ ڈالتی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.