Take a fresh look at your lifestyle.

بردووان بلاسٹ کیس کے 4 ملزموں کا اقبال جرم

کولکاتا،3،ستمبر:مغربی بنگال کے مشہور کھاگڑا گڑھ بم دھماکہ مقدمے میں گرفتار جماعت ال مجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) کے چار دہشت گردوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔عدالتی ذرائع کے مطابق اپنے جرم کا اعتراف کرنے کے بعد عدالت کے فیصلے تک پہنچنے کےلئے 629 گواہوں کی گواہی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کھاگڑا گڑھ دھماکے کے معاملے میں عدالت پہلے ہی 34 میں سے دو خواتین سمیت 26 جے ایم بی دہشت گردوں کو مجرم قرار دے چکی ہے اور وہ فی الحال جیل میں رہے ہیں۔اب عدالتی تحویل میں موجود مزید چار دہشت گردوں نے اپنے جرم کا براہ راست جج کے سامنے اعتراف کیا ہے۔واضح ہوکہ چاروں نے کولکاتا میٹروپولیٹن عدالت میں قومی تفتیشی ایجنسی کی خصوصی عدالت میں جج پرسنجیت بسواس کے سامنے تحریری طور پر اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ ان کے نام محمد یونس ، مطیع الرحمن ، ضیاءالحق اور ظہرالحق ہیں۔ فی الحال یہ چاروں ہی پریسیڈنسی جیل میں ہیں۔ ان کے وکیل محمد شاہ جہاں حسین نے کہا کہ 629 گواہوں کی گواہی پوری ہونے میں بہت وقت لگے گا۔یہی سوچتے ہوئے چاروں نے اپنے جرم کا اعتراف کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ عدالت ان کے جرائم کی جو بھی سزا طے کریگی اسے قبول کرے گے۔ اس معاملے میں صلاح الدین صالحین نامی ملزم مفرور ہے۔کہا جاتا ہے کہ وہ جے ایم بی کا بین الاقوامی سربراہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ 2 اکتوبر 2014 کو ضلع بردوان کے کھاگڑا گڑھ میں ایک مکان میں ہوئے دھماکے میں دو دہشت گرد ہلاک اور ایک تیسرا زخمی ہوگیا تھا۔ پولس نے جائے وقوعہ سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کرلیا۔ این آئی اے دھماکہ سے متعلق معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.