Take a fresh look at your lifestyle.

مرکزی ٹیم کو اب بنگال میں کہیں بھی گھومنے کی ضرورت نہیں:چیف سکریٹری مرکز کو مزیدتفصیلات دینے سے ریاستی حکومت کا انکار

کولکاتا 24اپریل:ممتا بنرجی کی حکومت نے بین وزارتی وزارتی مرکزی ٹیم (آئی ایم سی ٹی) کے سلسلے میں ایک بار پھر سخت موقف اختیار کیا ہے ۔یہ ٹیم بنگال پہنچ کر کورونا انفیکشن کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ مرکزی ٹیم کے ریاست کے مختلف علاقوں میں جانے کے مطالبے پر ، ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس ٹیم کو اب بنگال میں کہیں بھی گھومنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ چاہیں تو آرام سے یہاں رہ سکتے ہیں۔دراصل ، آئی ایم سی ٹی کی دو ٹیمیں مغربی بنگال آئی ہیں۔ ایک کولکاتا اور دوسرا سلی گوڑی۔ کولکاتا کی ٹیم نے کورونا انفیکشن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے مختلف اسپتالوں ، کورنٹائن مراکز کا بھی دورہ کیا اور مریضوں اور ڈاکٹروں وغیرہ سے بات کی ہے۔ اب یہ ٹیم ہوڑہ اور اس سے قبل مدنا پور جانا چاہتی تھی لیکن ریاستی حکومت نے ان کو لاجسٹک سپورٹ دینے سے انکار کردیا ہے۔ریاستی چیف سکریٹری راجیو سنہا نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ مرکزی حکومت نے کورونا متاثرہ فہرست میں شمالی بنگال کے جلپائی گوڑی ، کلیمپونگ ، ایسٹ مدنا پور جیسے علاقوں کو بھی شامل کیا ہے۔ جبکہ ان اضلاع میں تبدیلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسی صورتحال میں ، مرکزی حکومت نے کس بنیاد پر ٹیم کو یہاں بھیجا ہے ، اس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہئے۔ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مرکزی ٹیم کو بتادیا گیا ہے کہ اب ہم مدد نہیں کرسکتے ہیں۔
بنگال میں مرکزی وفد پہنچنے کے بعد سے ہی مرکز اور ریاستی حکومت میں ٹھن گئی ہے۔آخر میں ریاستی حکومت کے تعاون سے مرکزی وفد نے کولکاتا میں کرونا کے حالات کاجائزہ لیا۔ چیف سکریٹری راجیو سنہا کے مطابق مرکزی حکومت کی تفصیلات کے مطابق ملک کے کرونا متاثرہریاستوں میں مغربی بنگال 12ویں نمبر پر ہے۔ شمالی بنگال کے جن علاقوں کا وہ دورہ کرنا چاہ رہے ہیں وہاں کسی کا کرونا سے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ پھر دورہ کے لئے ان علاقوں کا انتخاب کیوں کیا گیا۔جمعرات کو چیف سکریٹری نے بتایا کہ منگل اور جمعرات کو انہیں کولکاتا کے مختلف علاقوں کا دورہ کرایا گیا۔نیو ٹاﺅن کا کرونٹائن سنٹر ,ایم ار بانگور اسپتال کا انہوں نے دورہ کیا۔ ان کے کہنے پر ریاست کے چیف ہیلتھ سکریٹری کے ساتھ ان کا ویڈیو کانفرنس کا انتظام کرا یا گیا۔ او ر ہمارا نئے سرے سے کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ فیلڈ ویزیٹر کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی مرکزی وفد اگر یہاں رہنا چاہتا ہے چھٹی منانے کے لئے تو وہ سات دنوں تک کولکاتا میں رہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف مرکزی وفد نے ریاستی حکومت کو جو فہرست پیش کی تھی۔اس فہرست میں ریاست کے کچھ ہاٹ اسپاٹ علاقے،کرونا اسپتال اور اور کچھ مارکٹ شامل تھے۔ اطلاع کے مطابق مرکزی وفد نے جن اسپتالوں کا دورہ کرنا چاہا تھا۔اس میں کولکاتا کا ایم ار بانگور اسپتال اور بیلیا گھاٹا آئی ڈی اسپتال شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہوڑہ کاستیہ بالا آئی ڈی، گول باڑی کا آئی ایل ایس اسپتال اور ڈومور جولا اسٹیڈیم کا کورونٹائن سنٹر کا بھی مرکزی وفد نے دورہ کرنا چاہا تھا۔ سالٹ لیک کا امری اسپتال،باراسات کا جی این ار سی نرسنگ ہوم کے ساتھ ساتھ راجر ہاٹ کا چترنجن کینسر اسپتال اور حج ہاﺅس کا کرونٹائن سنٹر اس کے علاوہ پانسکوڑہ کا بڑی ماں اسپتال،تملوک ضلع اسپتال،ہلدیا کا ایس ڈی اسپتال اور ہلدیا کا لاجسٹک کورینٹائن سنٹر بھی شامل ہے۔اسپتال اور کورینٹائن سنٹر کے علاوہ جن جگہوں پر مرکزی وفد نے جانا چا ہا تھا۔ان میں کولکاتا کارپوریشن کا 3نمبر وارڈ کی بیلگچھیا بستی,49نمبر وارڈ کا بہو بازار,58نمبر وارڈ کا ٹنگرا,دھاپا علاقہ,43نمبر وارڈ کا بڑا بازار علاقہ اور گارڈن ریچ علاقے کا 134اور137نمبر وارڈ شامل ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.