Take a fresh look at your lifestyle.

گارڈن ریچ : یونین کے نام پر کٹ منی لینے والوں کےخلاف کانگریس تحریک چلائیگی

کولکاتا،4،ستمبر: گارڈن ریچ میں یونین کو ڈھال بناکر کٹ منی لئے جانے کو ایشو بناتے ہوئے ریاستی کانگریس کے سینئر لیڈر اور اے آئی سی سی ممبر محمد مختار نے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ گارڈن ریچ واقعی دفاعی جہاز ساز کمپنی جی آر ایس ای کے کنٹراکٹر لیبر یونین( انٹک ) کے صدر محمد مختار نے کمپنی کنٹراکٹر لیبروں کے ساتھ متواتر ہورہے زیادتی کے خلاف اب مورچہ کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے آیندہ 20 ستمبر کے بعد وہاں کٹ منی لئے جانے اور مزدورں کا استحصال کئے جانے پر ٹھوس قدم اٹھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ تاہم اس جانب سے اسٹیٹ کانگریس کا مسلم چہرہ سمجھے جانے والے محمد مختار نے عوامی نیوز کو بتایا کہ ویسے تو ترنمول حکومت کے اقتدار میں کسی بھی کمپنی یونین برائے نام رہ گئی ہے اور وہاں ترنمول کے لوگ کھلے عام زور زبردستی کررہے ہیں مگر گارڈن ریچ شپ بلڈرس میں کنٹراکٹ ورکرس کے ساتھ ظلم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ محمد مختار نے GRSE کمپنی میں سرگرم ترنمول ٹریڈ یونین کے جنرل سیکریٹری شمیم انصاری کو اس کام کیلئے براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شمیم انصاری جس طرح ورکروں پردھونس جماکر کنٹراکٹروں سے کٹ منی لے رہیں وہ اب ناقابل برداشت ہوچلا ہے کیونکہ انکی لالچی فطرت کے سبب کنٹراکٹر اب اپنی من مانی کررہے ہیں۔ اس کا اثر ہمارے یونین سے جڑے لوگوں پر بھی پڑ رہا ہے کانگریس رہنما محمد مختار نے ترنمول یونین جنرل سیکریٹری شمیم انصاری کو مزید اپنی تنقید کے نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ انکی بھوک اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ کمپنی میں کام کرنے والے ہر کنٹراکٹ ورکرس سے ماہانہ 120 روپیہ پارٹی کے نام پر چندہ لیتے ہیں جس سے قریب ہر ماہ انہیں الگ سے 25 سے تیس ہزار حاصل ہوتا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ روٹ پر چلنے والے آٹو ڈرائیورز سے بھی روزانہ فی آٹو 20 روپیہ لینے کے ساتھ منی بس والوں سے بھی علاحدہ منتھلی طے کررکھا ہے۔ محمد مختار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آخر یہ زیادتی اور ظلم کی انتہا نہیں تو پھر کیا ہے۔ غریب آٹو چالک تک کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ محمد مختار نے آگے زور دیتے ہوئے کہا کہ شمیم انصاری ترنمول کا جھنڈا دیکھا کر جو کررہے ہیں وہ کیا ممتابنرجی کے اشارے پر کررہے ہیں اور جو کٹ منی وصول کررہے ہیں کیا اس میں حصہ ترنمول بھون کو بھی بھیجا جارہا ہے۔ اب اس پر ترنمول پارٹی کو جواب دینا ہوگا کہ شمیم انصاری کس کے شہ پر یہ آتنک کا بازار چلا ر ہے ہیں۔ محمد مختار نے ٹھوس طریقے سے کہا کہ جی آر ایس ای میں بطور کنٹراکٹر ورکرس کام کرنے والے ترنمول یونین کے لوگوں کی زندگی کو شمیم انصاری نے اجیرن کر رکھی انہیں جاگیردارانہ نظام کے طرز پر کام دیا جاتا ہے اور انکے خلاف بولنے والوں کو کمپنی کا گیٹ پاس چھین لیا جاتا ہے۔اسلئے اس پر ماں ماٹی مانش کا نعرہ لگانے والی ترنمول کانگریس اور اس سے منسلک لیڈران نے شمیم انصاری جیسے لوگوں پر بندش نہیں لگائی تو انکی تحریک متواتر جاری رہے گی۔ دوسری جانب اس پورے معاملے کیلئے جی آر ایس ای کمپنی ترنمول ٹریڈ یونین کے جنرل سیکریٹری شمیم انصاری سے کئی مرتبہ رابطہ قائم کرتے ہوئے ان کے تاثرات حاصل کرنا چاہا گیا لیکن انہوں نے محض اسے اپنے یونین ورکرس کی مفاد کی لڑائی قرار دیتے ہوئے مزید کچھ بھی بولنے سے گریزکیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.