Take a fresh look at your lifestyle.

فرہاد حکیم کی بکاس دوبے انکاونٹر پر پولس کے کردار پر تنقید

0

کولکاتا،11جولائی:یوپی گینگسٹر بکاس دوبے انکاونٹر کے بعد سیاسی بیان بازی جاری ہے۔ اپوزیشن یوگی حکومت پر مستقل طور پر سوالات اٹھا رہی ہےں۔ایسی صورتحال میں بنگال کے ٹی ایم سی نے اب بی جے پی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ٹی ایم سی رہنما فرہاد حکیم نے بکاس دوبے کے انکاونٹر پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے گھناو¿نے جرم کے ارتکاب کے بعد ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بکاس دوبے پاکستانی دہشت گرد تھا؟انہوں نے انکاو¿نٹر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جرم جرم ہے۔لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اس سے بڑا جرم ہے۔حکیم نے کہا کہ کوئی بھی اس جرم کی حمایت نہیں کررہا ہے۔ پولس پر حملہ ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ بکاس دوبے کا متعلقہ اتھارٹی سے سامنا کروایاجاتا اور قانون کے مطابق عدالت میں فیصلہ ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا یہ ہوا ایسا لگتا ہے کہ یوپی پولس خود ہی جرم کر رہی ہے۔ فرہاد حکیم نے کہا کہ ہم سب ہندستانی نظام عدل کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جو لوگ اس پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی آئین پر اعتماد نہیں رکھتے۔ہمیں قانون پر اعتماد کرنا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر آئین نہیں رہا تو جنگل راج جیسی صورتحال پیدا ہوگی۔ دہشت گردوں کو پکڑنا حکومت کا کام ہے ، لیکن اگر حکومت خود دہشت گرد بن جاتی ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بکاس دوبے کا پوسٹ مارٹم کے بعد گذشتہ روز آخری رسوم اداکردیا گیا ۔اس کی اہلیہ اور اس کے کچھ رشتہ دار اس کی ارتھی میں پہنچے تھے۔ واضح رہے کہ بکاس دوبے کوگرفتاری کے بعد کل انکاو¿نٹر کردیا گیا۔ جمعرات کی صبح 9 بجے وکاس کو اجین سے گرفتار کیا گیا تھا۔انہیں شام سات بجے اتر پردیش ایس ٹی ایف ٹیم کے سپرد کیا گیا تھا۔ ایس ٹی ایف کی ٹیم شام آٹھ بجے کانپورکےلئے روانہ ہوئی۔ جس کے بعد جمعہ کی صبح ایس ٹی ایف کے قافلے کی ایک گاڑی الٹ گئی۔اس دوران بکاس دوبے انکاو¿نٹر میں مارا گیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.