Take a fresh look at your lifestyle.

ریاستی حکومت اور گورنر کے درمیان عصمت دری اور اغوا کے اعدادو شمار پر ٹکراو

کولکاتا 7 اکتوبر۔ بنگال میں عصمت دری اور اغوا کے اعدادوشمار پر راج بھون اور ترنمول کانگریس حکومت کے مابین تلواریں کھینچ گئیں۔ اس معاملے میں ریاست کا محکمہ داخلہ گورنر جگدیپ دھنکڑ کے ذریعہ دیئے گئے اعداد و شمار کی سچائی پر سوال اٹھا رہا ہے۔ ریاستی حکومت کے ساتھ تمام معاملات پر طویل دنوں سے الجھے رہے گورنر نے منگل کے دن وزیر اعلی ممتا بنرجی سے درخواست کی کہ وہ دیگر مقامات پر آگ لگانے سے پہلے ریاست میں "امن و امان کو درست کریں”۔
انہوں نے ریاست میں اگست مہینے میں زیادتی اور اغوا کے واقعات کے اعدادوشمار بھی ٹویٹ کئے ہیں۔ چیف منسٹر بنرجی کے زیر اقتدار ریاستی محکمہ داخلہ نے فوری طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی” قرار دیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار کسی بھی سرکاری رپورٹ پر مبنی نہیں ہیں۔
دھنکھڑ نے ٹویٹ کیا "وزیر اعلی ممتا بنرجی کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اگست 2020 میں ریاست میں زیادتی کے 223 واقعات اور 639 اغوائ خواتین کے خلاف جرائم کی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ تشویش کی بات ہے۔” اب آپ کے گھر میں آگ بجھانے کا وقت آگیا ہے اور کہیں اور آگ لگنے سے پہلے امن و امان کو درست کرنا چاہئے۔
اس کے جواب میں محکمہ داخلہ نے ٹویٹ کیا ، "راج بھون نے بنگال میں عصمت دری اور اغوا کے بارے میں جو اعدادوشمار دیئے ہیں وہ کسی سرکاری رپورٹ اعداد و شمار یا معلومات پر مبنی نہیں ہیں۔” یہ الزامات بے بنیاد ہیں ، یہ جھوٹ اور الجھاو¿ پر مبنی ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.