Take a fresh look at your lifestyle.

امفان بدعنوانی کی آڈیٹ CAGہائی کورٹکرے گی۔

کولکاتا4 دسمبر: گزشتہ 25 مئی کو امفان طوفان کے دوران اضلاع کے جن لوگوں کے مکانات تباہ و برباد ہوگئے تھے ان کو معاوضے کی رقم کی فراہمی میں بدعنوانی کی شکایت پر بی جے پی لیڈروں نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔ لہذا گزشتہ کل کلکتہ ہائی کورٹ نے معاملے کی چنوائے کے دوران واضح طور یہ کہہ دیا کہ مکانات کی تعمیراتی رقوم میں بدعنوانی کا معاملہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے لہذا مرکز کی کنٹرولر آف جنرل CAG کرے گی۔اس ضمن میں کلکتہ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بنچ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 63 سو کروڑ میں سے 2300 کروڑ روپئے مہیا کی تھی اور اضلاع میں لوگوں کو مکانات کی تعمیر کے لئے مہیا کی جانے والی رقم میں بدعنوانی کی گئی ہے۔ لہذا معاملے کی آڈٹ کی جانچ کی ذمہ داری کیگ CAG کو دی جائے۔ خیال رہے کہ جون میں جنوبی 24پرگنہ میں بی جے پی کی مزدور مورچہ اور بیرک پور حلقہ کے ایم پی ارجن سنگھ نے مفاد عامہ کی جانب سے عرضی داخل کی تھی جس کی شنوائی گزشتہ کل تھی اور اسی دوران کلکتہ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سناتا۔ چیف جسٹس نے ایڈو کیٹ جنرل سے کہا کہ ریاستی حکومت کو کافی وقت دیا گیا تھا مگر اب اس کی کوئی گنجائش نہیں اگر حکومت چاہے تو عدالت عظمیٰ تک اپنی روداد لے کر جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راحت کوشی میں جو مرکزی خطیر رقمیں آئی تھیں ان میں ھاندلی ، خرد برد کو لے کر سیاسی جماعتوں نے کافی واویلا مچایا اس کو لے کر کئی شکایتیں بھی موصول ہوئیں ۔ آخر کار ہائی کورٹ نے پیش قدمی کرتے ہوئے اس معاملے کی جانچ CAGکو سونپ دی ہے ۔ اس سے صاف ہوجائے گا کہ اتنی بڑی رقم جو راحت رسانی کیلئے تھی ریاستی سطح سے بلاک سطح تک تقسیم کی گئی اور ان افسران کی پوزیشن بھی دیکھی جائے گی جنہوں نے ان رقموں کو جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جانچ میں اگر کوئی قصور نکلا تو کورٹ ان افسران کے خلاف سخت قدم اٹھائے گا پہلے مرحلے میں فینانشیل آڈٹ پھر دوسرے مرحلے میں فارمنس آڈٹ ہوں گے جو سختی سے ہوں گے ۔ اس جانچ میں اس پر دھیان دیا جائے گا کہ آیا امپھان میں تباہ و برباد دیہی لوگوں کو مد د ملی ہے یا نہیں ۔ پورے تین مہینے کے اندر CAGاپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردے گی ۔ یاد رہے کہ امپھان میں تباہ حال لوگوں کو مکان کی مرمت کیلئے 20,000روپئے کا تعاون کیا گیا تھا ۔ ان خطیر رقموں کو لے کر ہی بدعنوانی و خرد و برد کے لاتعداد الزامات مخالف سیاسی جماعتوں نے لگایا ہے دیہات کے لوگوں کا یہ الزام بھی تھاکہ روپئے کی تقسیم میں ترنمول پارٹی کے علاقائی لوگوں کو فائدہ زیادہ ہوا تھا۔ خرد برد کرنے والے مقامی لیڈروں کو ممتا نے روپئے ۔ واپس کرنے کی سختی بھی کی تھی ۔ یہی وہ تقسیم میں جانب داری تھی جس پر بھاجپا نے جانچ کا دعویٰ کیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.