Take a fresh look at your lifestyle.

ریاستی حکومت کی پوش میلہ میدان فصیل کے فیصلے پر ہائیکورٹ سے نظر ثانی کی اپیل

کولکاتا،30،ستمبر:بنگال حکومت نے کلکتہ ہائیکورٹ سے عدالت کے ذریعہ قائم کردہ کمیٹی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔جہاںشانتی نیکیتن میں پوش میلہ گراو¿نڈ کے اطراف باڑ لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی دوران ریاست میں ایڈووکیٹ جنرل نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں کمیٹی سے خارج کردیا جائے گا۔ وشوا بھارتی حکام نے سوموار کے دن سے میدان کے چاروں طرف باڑ لگانا شروع کردیاتھا۔ جوکہ کمیٹی کی ہدایت کے بعد کام شروع کیا گیا ہے۔ جس میں ہائی کورٹ کے دو جج بھی شامل تھے۔17 اگست کو وشوا بھارتی کی پوش میلہ گراو¿نڈ کے آس پاس باو¿نڈری وال کی تعمیر کرنے کی کوشش کے آس پاس تشدد اور تخریب کاری کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل اے مجمدار نے باڑ لگانے کے کام پر پابندی کی درخواست کی اور دعویٰ کیا کہ مقامی لوگوں میں عدم اطمینان ہے جو اس کے خلاف ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پولس انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے اور اس کے محافظوں کو قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ چیف جسٹس ٹی بی این رادھا کرشنن اور جسٹس ایس سرکار کے ڈویڑن بینچ نے کہا کہ وہ بدھ کے روز ریاستی حکومت کی درخواست پر غور کریں گے جب اس کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ ایڈووکیٹ جنرل کی مرضی پر سماعت کی اگلی تاریخ کو بنچ نے کہا کہ وہ ایڈووکیٹ جنرل کشور دت کی عدالت کی تشکیل کردہ کمیٹی سے خارج کرنے کی خواہش پر بھی غور کرے گا۔بینچ نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کی شانتی نکیتن اس ثقافتی ورثہ اور تاریخ کے تحفظ کے لئے جس میں پوش میلہ ایک حصہ بن گیا ہے۔ عدالت نے گذشتہ 18 ستمبر کو آخری سماعت کے موقع پر ہدایت کی تھی کہ گرودیو ٹیگور کے قائم کردہ اور ترقی پذیر عظیم ادارے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو ایک خودکار طور پر عوامی مفاداتی قانونی چارہ جوئی کے طور پر لیا جائے۔ یہ کمیٹی وشوا بھارتی سے متعلق امور کو موزوں طریقے سے حل کرنے کے طریقے تلاش کرنے کےلئے تشکیل دی گئی تھی۔اس کی قیادت جسٹس ایس بنرجی کررہے ہیں اور جسٹس اریجیت بنرجی ممبر ہیں۔ اس میں ایڈوکیٹ جنرل اور مرکزی حکومت کا ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل بھی شامل ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.