Take a fresh look at your lifestyle.

گہرے پانی کا ہلسہ اس بار ماہی گیروں کو مایوس کر گیا

0

کولکاتا،6اگست: جیسا کہ کہا جا چکا تھا کہ آبی آلو دگی میں کمی واقع ہونے سے اس بار ہلسہ کی پیداوارمیں خاطر خواہ اضافہ ہوگا مگر لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے جو بھی امیدیں لگائی گئی تھیں سبھی پر پانی پھر گیا۔ مغربی بنگال میں جھلملاتی کھیتی نے اس سیزن میں ماہی گیروں کی آمدنی پر نحوست پھیلا دیا گہرائی میں رہنی والی ہلسہ مچھلی نے اس بار ماہی گیروں کی25فیصد آمدنی کو بڑھنے نہ دیا کیونکہ جولائی اگست کے مہینے میں ہی ہلسہ کا کاروبار اپنے پورے شباب پر ہوتا ہے دیگھا، شنکر پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے وائس چیئرمین اکھیل گیری کا یہ کہنا ہے کہ لگ بھگ 800 ٹراویلرس کو امسال جولائی کے مہینے میں سمندر کی طرف روانہ کیا گیا تھا مگر وائے قسمت سبھی ٹراویلس مایوسی کے ساتھ واپس لوٹ آئے حالانکہ جولائی اگست کے مہینے میں ہی سمندر سے بھاری تعداد میں ہلسہ اٹھایا جاتا ہے۔ ایسے میں ہلسہ کی عدم دستیابی سے پوری آمدنی پر اوس پڑ گیا۔ یہی بات کاکدیپ کے ماستو انیان سمیتی کے جنرل سکریٹری نے بھی کہی کہ اس برس ہلسہ کی عدم دستیابی سے ہم سبھی خسارے کے دن گزار رہے ہیں حتیٰ کہ 1200 ٹراویلرس کو سمندر میں لے جانے والے ماہی گیروں کو بھی اس برس بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ ساو¿تھ 24پر گنہ کے سندر بن اور ہگلی ندی کی آویزش سے ان علاقے میں ہلسہ کی پیداواری زبر دست ہوتی ہے مگر اس برس ندی کے یہ سارے ہلسے اس بار سمندر کی طرف نکل گئی ہے جس سے مچھلی کا بازار خاص کر ہلسے کا سبھی کو رولا دیا ہے لگ بھگ 1600ٹراویلرس جو دیگھا ، شنکر پور کے ہی ہیں ان کے ماہی گیروں کو کوویڈ-۹۱ ہو چکا تھا جس کی وجہ سے کوئی بھی ہلسہ پکڑنے کی ہمت نہ کر سکا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.