Take a fresh look at your lifestyle.

ہوڑہ واقعہ:میونسپل کمشنر عہدے سے برطرف‘14 گرفتار جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا:ممتا

0

کولکاتا29 اپریل: مغربی بنگال حکومت نے ہوڑہ میں کل شام ہوئے واقعہ کے بعد ہوڑہ میونسپل کمشنر بجن کرشنا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔کل یہاں ہجوم نے پولس پر حملہ کردیا تھا جس میں دو پولس اہل کار زخمی ہوگئے تھے۔اڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوڑہ دھا ول جین (آئی اے ایس) کو تا حکم ثانی ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کا اڈیشنل چارج دے دیا گیا ہے۔عورتوں پر لاٹھی چاج کے خلاف گزشتہ شام ہوڑ ہ کے ٹکیہ پاڑہ علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی۔ اس واقعے کے خلاف لوگوں نے ریف کا پیچھا کیا۔ مکان کی چھت سے اینٹ، پتھر پھینکے جانے کی شکایت کی گئی ہے۔ اطلا ع ملنے پر ایک پولس کا ایک موبائل وین موقع پر پہنچنے پر اس میں بھی توڑ پھوڑ کئے جانے کا الزام ہے۔جس سے کئی پولس والے زخمی ہو گئے ہیں۔ بعد میں ہوڑہ سیٹی پولس کے عملہ نے پولس کی کثیر تعداد کے ساھ موقع پر پہنچ کر حالا ت کو قابو میں کیا۔ہوڑہ شہر کے بیشتر علاقوں میں جہاں لاک ڈاﺅن پر پوری طرح عمل ہو رہاہے۔ وہیں ہوڑہ سیٹی پولس کے پاس شروع سے ہی اس طرح کی شکایتیں مل رہی تھی کہ ٹکیہ پاڑہ اور ویلیلیس روڈ پر لوگ گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔ ہوڑہ کارپوریشن علاقے کے ٹکیہ پاڑہ اور ولیلیس روڈ کو ریاستی حکومت نے سوموار کو ہی کنٹنمنٹ زون میں شامل کیا ہے۔ اس کے باوجود اس دن علاقے کے بازار میں لوگوں کی خریدو فروخت جاری تھی۔ ریف کی ایک موبائل وین موقع پر پہنچی اور ریف کے جوانوں نے راستے سے لوگوں کو ہٹانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس درمیان عورتوں پر پولس کا لاٹھی چارج کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی مقامی لوگوں نے پولس پر حملہ کر دیا۔اس واقعے کے خلاف 14لوگ حراست میں لئے گئے ہیں۔ان کے خلاف کئی شکایتیں درج کی گئی ہیں۔
مغربی بنگال کے ضلع ہوڑہ کے ٹکیہ پاڑہ میں منگل کے روز پولیس پر ایک ہجوم نے حملہ کردیا۔اس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ٹکیہ پاڑہ کورونا وائرس کے انفیکشن کے معاملے میں ’ریڈ زون‘ میں شامل ہے۔حکمران ترنمول کانگریس اور حزب اختلاف کی بی جے پی کے مابین ریاست میں الفاظ کی جنگ بھی شروع ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کی ہے۔ جبکہ بی جے پی نے دعوی کیا ہے کہ یہ واقعہ ریاستی حکومت کی جانب سے مسلم نوازی کی پالیسی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ شام کا ہے جب پولیس گشت کرتے ہوئے ٹکیہ پاڑہ کے علاقے بلیئرس روڈ پہنچی۔ پولیس کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اس اقلیتی اکثریتی علاقے میں معاشرتی رابطے کے ذریعہ لاک ڈاو¿ن کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگ مقامی مارکیٹ میں جمع ہوگئے ہیں۔ایک پولیس افسر نے بتایاکہ جیسے ہی پولیس نے انہیں گھر واپس آنے کو کہا ، ہجوم نے ان پر پتھراو¿ کیا اور ان کو زدوکوب کیا۔ واقعے میں پولیس کی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کو مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔بعدازاں ، صورتحال پر قابو پانے کے لئے ریپڈ ٹاسک فورس (آر اے ایف) سمیت پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ قابل ذکر ہے کہ ہوڑہ مغربی بنگال کے چار اضلاع میں ہے جہاں ریڈ زون کا اعلان کیا گیا ہے۔ نیز ، کوویڈ 19 کے 75 فیصد کیس یہاں سے آئے ہیں۔ دیگر تین اضلاع کلکتہ ، مشرقی مدنی پور اور 24 شمالی پرگنہ ہیں۔
ضلع ہوڑہ کے ترنمول کانگریس کے انچارج اور وزیر جنگلات راجیو بینرجی نے پولیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسی اثنا میں ، مغربی بنگال بی جے پی نے ٹویٹ کیا ، ہجوم نے مغربی بنگال کے ضلع ہوڑہ کے ٹکیہ پاڑہ میںپتھراو¿ کیا ۔اس کے لئے ممتا بنرجی کا شکریہ۔ ان کے قابل اعتماد ووٹر س اب پولیس پر پتھراو¿ کررہے ہیں۔ ہوڑہ کے شہر ٹکیہ پاڑہ میں منگل کے روز پولیس حملے کے واقعے کے 24 گھنٹے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اپنا منہ کھولا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ حکومت اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی۔ ریاستی سکریٹریٹ نوان میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں ، وزیر اعلی نے تکیہ پاڑہ واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت اسے تنگ مذہبی سیاست کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے اپوزیشنرہنماو¿ں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کل کوئی انتخابات نہیں ہونے والے ہیں جس میں وہ مقابلہ کررہے ہیں۔ ٹکیہ پاڑہ اسکینڈل پر پولیس مناسب کارروائی کرے گی۔ ممتا نے کہا کہ واقعہ بہت افسوسناک ہے۔ممتانے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا گدھوں سے موازنہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ان (بی جے پی قائدین) کا کام صرف منفی وائرس پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہر چیز پر سیاست کر رہی ہے۔ ان کا ارادہ ریاستی حکومت کو بدنام کرنا ہے۔ وہ صرف منفی وائرس پھیلاتے ہیں۔ اچھے کام نہیں دیکھتے۔ ممتا نے کہا کہ بی جے پی کے رہنما آئینے میں اپنا اپنا چہرہ نہیں دیکھ رہے ہیں اور دوسروں کے چہرے کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ کبھی بھی اس پر تبصرہ نہیں کرتی تھیں کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں کیا ہورہا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.