Take a fresh look at your lifestyle.

کیلاش وجئے ورگیہ سمیت 25 سے زائد پر ایف آئی آر درج

0

کولکاتا 9 اکتوبر۔ بنگال میں بی جے پی کے ریاستی سکریٹریٹ (نبانو) چلو مہم کے دوران مظاہروں کے درمیان ہوئے پرتشدد واقعات کے ایک دن بعد ، کولکاتا پولس نے جمعہ کے روز ہیسٹنگ پولس اسٹیشن بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ سمیت 25 سے زائد لیڈران پر غیرقانونی طریقے سے بھیڑ جمع کرنے کے علاوہ دیگر آئین کی دھجیاں اڑانے پر 7 ایف آئی آر درج کری ہے۔ جن لوگوں کے خلاف کیس درج کی گئی ہے ان میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور بنگال کے انچارج کیلاش وجے ورگیہ ، قومی نائب صدر مکل رائے ، ممبر پارلیمنٹ لاکیٹ چٹرجی ، رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ ، قائدین راکیش سنگھ ، بھارتی گھوش ، جئے پرکاش مجمدار ، بشوجیت گھوش ، بپول سرکار جیسے اہم نام شامل ہیں۔ غیر قانونی اجتماع ، پولس حملہ ، ٹریفک روکنا ، مہم کے لئے بیریکیڈ توڑنے سمیت مختلف دفعات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزرے روز جمعرات کے دن ، بی جے پی کے ذریعہ نبانوں چلو مہم تعلیم سمیت بے روزگاری ، امن و امان ، اور بنگال میں پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں کے مبینہ قتل کے خلاف احتجاج کے لئے منظم کی گئی تھی ، جس میں پولس نے انہیں روکنے کی کوشش کری اور اسی دوران ہوئے ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ پولس نے لاٹھی چارج ، آنسو گیس ، واٹر کینن کا زبردست استعمال کیا۔ کئی مقامات پر پتھراو¿ بھی ہوا۔ پولس کے مطابق بم بھی پھینکے گئے اور ایک ہتھیار بھی ملا۔ تاہم بی جے پی رہنماو¿ں نے پولس پر بم حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ بی جے پی کے یوتھ ونگ کے کارکنوں نے کل رات جوڑاسانکوں پولس اسٹیشن کے سامنے مظاہرہ کیا اور مارچ کے دوران پارٹی کارکنوں پر ہونے والے مبینہ حملے کے الزام میں پولس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ اس حکومت نے اقتدار میں رہنے کے تمام اخلاقی حقوق کھو دیئے ہیں۔ پولس نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے ہمارے لوگوں کو بے دردی سے پیٹا اور پارٹی کارکنوں پر کیمیکل ملا ہوا رنگین پانی پھینک دیا جس سے متعدد شدید زخمی اور بیمار ہوگئے۔
اسی کے ساتھ ہی پولس کا کہنا ہے کہ بی جے پی رہنماو¿ں نے کرونا پروٹوکول کی خلاف ورزی کی پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو کولکاتا اور ہوڑہ کی سڑکوں پر جمع کیا اور تشدد ہوا۔ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ بی جے پی کے مرکزی رہنما کیلاش وجئے ورگیہ نے الزام لگایا کہ پولس نے پ±رامن تحریک پر وحشیانہ حملے کئے۔ ہم تشدد کے ساتھ تشدد کا جواب دے سکتے تھے لیکن ہم پرامن تحریک اور امن کو برقرار رکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.