Take a fresh look at your lifestyle.

کولکاتا ایئرپورٹ اتھاریٹی نے مسلم پرسنل لاءبورڈ، جمعیت علماءاور دیوبند کو لکھا خط

کولکاتا،/31اگست:کیرالہ میں ہوائی جہاز کے حادثے سے سبق حاصل کرتے ہوئے کولکاتا ایئرپورٹ اتھارٹی نے مسلم پرسنل لا بورڈ ، جمعیت علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کو خط لکھا ہے کہ اس بار کسی بھی قسم کے حادثے سے بچنے کےلئے اندرونی مسجد کو ہٹا دیا جائے۔ خط اصل میں مسلم تنظیموں کی مداخلت سے بھیجا گیا ۔ واضح رہے کہ کولکاتا ایئرپورٹ سے بہت پہلے ہی مسجد ائیرپورٹ کے علاقے میں تھی۔ ہوائی اڈے کی زمین 1890 میں حاصل کرنے سے بہت پہلے ہی مسجد کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اب یہ ہوائی اڈے کی دیوار سے متصل ہے۔ مقامی لوگوں میں اسے گوری پور جام مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مسجد کو ہوائی اڈے کے منصوبے سے دور رکھا گیا تھا کیونکہ یہ 1924 میں کولکاتا ایئرپورٹ کھولنے سے بہت پہلے ہی موجود تھا۔ بعدازاں 1982 میں ہوائی اڈے کی توسیع کےلئے اراضی حاصل کی گئی ، لیکن اس مسجد کو چھوڑ دیا گیا۔ کیونکہ پہلا منصوبہ نارائن پور کے علاقے کی طرف بڑھانا تھا۔ اس طرح کے منصوبے گزر چکے ہیں۔ لیکن بعد میں اس علاقے کی آباد کاری کی وجہ سے توسیع ممکن ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرا رن وے مدھم گرام کی طرف سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب اس رن وے میں توسیع کے لئے مسجد پر غور کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل مقامی مسلمانوں نے یہ سوالات کے باوجود کہ ہوائی اڈے کے ساتھ ہی ایک مسجد کیوں ہوگی انہوں نے ہوائی اڈے کے لئے زمین چھوڑ دی تھی۔ ہوائی اڈے کا منصوبہ اس طرح بنایا گیا تھا کہ مسجد کو منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب مقامی مسلمانوں کا سوال یہ ہے کہ ہوائی اڈے کی توسیع یا ڈیزائن میں کسی غلطی کی وجہ سے مسجد کی مرمت کیوں کی جائے؟ اگرچہ مرکز نے ایئرپورٹ پر بڑے طیارے کے لینڈنگ کےلئے رن وے کے اختتام پر 240 میٹر کی اضافی جگہ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن اب اضافی جگہ صرف 160 میٹر ہے۔ لہٰذا ایئرپورٹ اتھارٹی نے دارالعلوم دیوبند،جمیعت علماءہند، مسلم پرسنل لاءبورڈ کو خط ارسال کیا ہے جس میں ا±نہیں مسجد ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.