Take a fresh look at your lifestyle.

کولکاتا : پولس قیدیوں کیلئے الگ سے آئیسولیشن بنائےگی

0

کولکاتا،29جولائی:کولکاتا کی جیلوں میں قیدیوں کی حفاظت کے لئے پولس نے الگ الگ تنہائی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ ‘کرونا وائرس کے شکار ہونے سے بچ سکیں۔ رواں ماہ کے شروع میں کولکاتا پولس کے انٹلیجنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک درجن سے زائد افسران کو قرنطین کرنا پڑا تھا۔ چونکہ ایک ملزم نے تفتیش کے دوران کرونا کے نشانات دکھائے تھے اور بعد میں اس کی جانچ پڑتال کی گئی تو اسے کرونا سے متاثر پایا گیا تھا۔ صرف یہی نہیں مذکورہ پولس ٹیم کے ایک افسر نے پہلے ہی مثبت اطلاع دی ہے۔ کولکاتا پولس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ہم ہیڈ کوارٹر میں تنہائی کا لاک اپ لگانے کا ارادہ کر رہے ہیں تاکہ گرفتار شدہ شخص میں جو بھی کرونا کے اشارے دکھائی دے گا تو اسے الگ رکھا جاسکے۔ لاک ڈاو¿ن کے دور میں مجرمانہ واقعات میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔کولکاتا پولس ہر ماہ اوسطا 1400-1500 جرائم کے واقعات ریکارڈ کرتی تھی۔ گزشتہ25 مارچ کو ملک بھر میں لاک ڈاو¿ن کے اعلان کے بعد اپریل میں یہ تعداد کم ہو کر 300 کے قریب ہوگئی۔ جون میں 900 کے قریب کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ مقامی تھانے سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے انتظامات کو دیکھیں جہاں تنہائی کے لاک اپ لگائے جاسکتے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تمام تھانوں میں ضروری انفراسٹرکچر نہیں ہوسکتا ہے۔ ریاست میں پولس اہلکاروں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولس کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی پولس اسٹیشنوں ہوٹلوں اور کمیونٹی مراکز پر بھی بک کی جارہی ہے جو عارضی طور پر بیریکوں کا کام کریں گے۔ کچھ تھانوں میں شیشے کے کیوبلیس لگائے جارہے ہیں ، جہاں اہلکار تھانوں میں آنے والے لوگوں سے مل سکتے ہیں۔تنہائی لاک اپ کے ذریعے قیدی نہ صرف اس وبا سے بچاو¿ میں مدد فراہم کریں گے بلکہ پولس افسران بھی محفوظ رہیں گے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.