Take a fresh look at your lifestyle.

بھومی پوجن کے موقع پر شہر و مضافات میں تشدد پھیلانے کی کوشش ناکام نارکلڈانگہ،کاشی پورٹولا ہٹا میں کشیدگی پر سیکوریٹی سخت

کولکاتا،5،اگست:رام مندر کی سنگ بنیاد تقریب کے نام پر بنگال میں بھگوا جماعت کے کارکنوںنے یہاں کی پر امن فضا کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی اور شمالی کولکاتا کے نارکل ڈانگہ میںجے شری رام۔ کا نعرہ لگا تے ہوئے بھگوا لیڈران نے ماحول کوبگاڑنے کی کوشش کی۔مگر پاس کی مسجد کے امام اور مقامی سماجی رہنماو¿ں کی کوششوں سے فرقہ وارانہ فساد ٹل گیا۔موقع پر نارکل ڈانگہ تھانہ کی پولس نے آکر حالات کو قابو میں کر لیا۔بنگلا کے سپوتوں نے بنگال کی روایت قومی یکجہتی اور انسانیت کوکو برقراررکھنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے فسادی منصوبے کو ناکام بنا دیا۔اسطرح لوگوں نے راحت کی سانس لی۔واضح ہو کہ ماحول اتنی تیزی سے بگڑنے لگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم امڈ پڑا۔ایسے پرآشوب موقع پر مقامی مسجد کے امام کے علاوہ شرافت ابرار، محمد محمود ، شاہد حسین وارثی وارڈ نمبر 28کے کوآرڈینیٹر اقبال احمد، محمد پرویز سمیت دیگر سماجی رہنماو¿ں اور مقامی لوگوں کی کوششوں سے فرقہ ورانہ فساد ٹل گیااور شرپسندوں کی مذموم منصوبے پر پانی پھیر گیا۔اس واقعہ سے پورا راجہ بازار اور نارکل ڈانگہ علاقہ دہل اٹھاتھا۔ پولس کی مستعدی سے بڑا خطرہ بھی ٹل گیا۔کافی دیر تک لوگوں کا ہجوم علاقے میں لگا رہا اور پولس نے بھی علاقے میں اپنی پہرے داری سخت کردی۔تا دم تحریر حالات کنٹرول میں ہیں۔وہیں دوسری جانب شہر کے کاشی پور میں بھی ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔واضح ہو کہ ایودھیا میں رام مندر کی بھومی پوجا کو لیکر ریاست میں بھگوا جماعت کے حامیوں میں موجود جوش نے جگہ جگہ فساد برپا کرنے کی گہری سازش کو جگا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیشتر جگہوں پر فرقہ دارانہ فساد ہوتے ہوتے رہ گیا۔شمالی کولکاتا کے کاشی پور میں واقع چیت پور علاوہ میں آج بھگوا بینر میں مقامی شر پسندوں نے جگہ جگہ بھگوا پرچم لگانے کی کوشش کی اور جے شری رام ک نعرہ لگاتے ہوئے پورے علاقے میں گشت کرتے رہے۔ ان لوگوں نے چیت پور تھانہ سے چند میٹر کی دوری پر بھی بھگوا پرچم لگانے کی کوشش کی تو چیت پور تھانہ کی پولس نے ان تمام جھنڈوں کو اتار کر رکھ دیا اور ان لوگوں کو نعرے بازی کے لیے راستہ کا استعمال کرنے سے منع کیا۔ پولس کے مطابق آج لاک ڈاو¿ن کے دوران یہ لوگ پولس کے کام میں رخنہ اندازی کر رہے تھے۔ لہٰذا ہم نے انہیں راستہ سے ہٹ کر نعرے بازی کا مشورہ دیا تو یہ لوگ الٹا ہم سے ہی الجھ پڑے۔اس طرح سے کاشی پور علاقے میں بھگوا بینر کی آڑ میں فرقہ وارانہ فساد کی کوشش کی گئی تھی جسے مقامی پولس نے ناکام بنا دیا اورحالات کو قابو میں کر لیا۔ساتھ ہی ساتھ مضافاتی علاقہ جنوبی چوبیس پرگنہ ضلع کے تحت گولا ہاٹ میں بھی سرکاری زمین پر مندر کی تعمیر کو لیکر ٹولہ ہٹامیں زبردست کشیدگی پھیل گئی۔جب پولس اور مندر بنانے والوں کے درمیان جم کر لڑائی ہوئی۔اورپورا ٹولا ہٹا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔مندر بنانے والوں نے بانس کے ٹکڑوں اور پتھروں سے پولس والوں پر حملے بھی کئے۔جس کی وجہ سے دو پولس والے شدید زخمی ہو گئے۔اس سلسلے میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے پولس پر حملے کے الزام میں 28افراد کو حراست میں لے لیا۔صورتحال میں کشیدگی کی وجہ سے بھاری تعداد میں پولس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
ذہن نشیں رہے کہ بھگوا جماعت ریاست میں بھومی پوجن کے بہانے فساد برپا کر کے انتخاب کےلئے اپنی زمین ہموا کرنا چاہتی ہے تاکہ 2021کے اسمبلی انتخاب میں اسے اقتدار مل جائے ۔مگر ہماری وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پولس انتظامیہ نے ہمیشہ ایسے ذہنیت اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے فرائض بحسن و خوبی نبھائی ہے۔جنہوں نے ان کے منصوبے کو ہمیشہ ناکام بنایا ۔یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ ہندو ووٹ کو متحد کیا جا سکے اور ممتا حکومت کو جڑ سے اکھاڑکر اقتدار پر قبضہ کیا جائے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ رام مندر کی تعمیر کےلئے بھومی پوجن تو ایک بہانہ ہے حقیقت میں اسمبلی انتخاب ہی اصل نشانہ ہے تاکہ بھولے بھالے عوام کو رام کے نام پر بیوقوف بنا کر اپنی جھولی میں ان کے ووٹ حاصل کر کے اقتدار کا مزہ لوٹنا ہے۔ بنگال کے ہوشمند عوام نے ایک بار پھر ان کے منصوبے کو ناکام بنا کر کثرت میں وحدت کی عظیم روایت برقرار رکھنے میں اپنا کردار نبھا کربنگال کو ان کے ناپاک ارادے بچا لیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.