Take a fresh look at your lifestyle.

ورونا سے نہیں بھی مرے تو سانپ کیڑے مکوڑوں ڈینگو سے ضرور مرجائیں گے : مقامی باشندے‎ Inbox x

              ہگلی24/جولائی ( محمد شبیب عالم ) لوگ کورونا اور لاک ڈاؤن کی مار سے پہلے ہی پریشان ہیں اب سی درمیان بارش کے پانی علاقے میں سیلابی صورتحال اختیار کر لیا ہے ۔ جسکی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے گھروں میں چولہا جلنا تک مشکل ہوگیا ہے ۔  یہ واقعہ ہے چندن نگر میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 30 بلکولی اترپاڑہ کے علاقے کا ۔  جہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ موسلادھار بارش دو روز قبل ہوئی تھی ۔ لیکن تب سے آج تک پورے علاقے میں گھٹنوں تک پانی جمع ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سیلابی صورتحال کی وجہ سے سانپ کیڑے مکوڑے بھی پریشان کررہے ہیں ۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی خوف ستا رہا ہے کہ کورونا سے موت ہو یا نہ ہو مگر سانپ یا کسی زہریلے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے سے ضرور مرجائیں گے ۔ یا پھر ڈینگو سے ہماری موت ہوجائے گی ۔  علاقائی لوگوں کا یہ بھی الزام ہےکہ گزشتہ تیس برسوں سے برسات کے موسم میں ہماری مصیبتیں شروع ہوجاتی ہے اور ہمیشہ ہی میونسپل انتظامیہ سے شکایت کرتے ہیں مگر نتیجہ زیرو ہی نکلتا ہے ۔  آج ایک بار پھر مقامی لوگوں نے سخت احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس بات کی خبر ملتے ہی چندن نگر میونسپل کارپوریشن کے مئیر رام چکرورتی متاثرہ علاقے میں حاضر ہوگئے ۔ علاقے میں صورتحال گھوم کر دیکھا اور فوراً انجینئر کو طلب کیا اور جغرافیائی حالات دیکھنے کے بعد لوگوں کو یقین دلایا کہ اس علاقے میں نکاسی مسائل کو جلد ہی ٹھیک کردیا جائے گا ۔  اس دوران پختہ راستہ کو لیکر بھی لوگوں نے شکایت کی ۔ تو مئیر نے کہا کہ ٹھیک ہے پختہ راستے بھی بنا دیئے جائیں گے ۔ بس تھوڑا سا اور وقت دیں ۔  اس معاملے میں مئیر رام چکرورتی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہاں پانی جمع ہونے کے مسائل ہیں ۔ مگر ایسا نہیں کہ ہم لوگوں کی نگاہ اس جانب نہیں ہے ۔ کچھ تکنیکی مسائل ہیں جسکی وجہ سے ہمیں کام کرنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔ ساتھ ہی میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یہاں کے لوگ کافی پریشان ہیں انہیں مختلف طرح کی دشواریاں پیش آرہی ہے ۔  اسی لئے خبر ملتے ہی اسسٹنٹ انجینئر کے ساتھ علاقائی معائنہ کیا ہوں ۔  ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہاں سے پانی نکالنے کے لئے پورے علاقے کا لیبل کو ہائی کرنا پڑےگا ۔ اسکے لئے میونسپل بورڈ میٹنگ میں بات کرینگے ۔ انہوں نے اور کہا کہ لیکن راستے کو پختہ کرنے کا کام برسات میں ممکن نہیں ہو گا ۔ پھر بھی پانی نکاسی کےلئے پمپ لگایا جائے گا ۔   ادھر علاقائی ایک خاتون نے میونسپل اور مئیر پر سنگین الزام لگاتے ہوئے بولی کہ ہم بارہ مہینے میں چھ مہینے پانی میں رہتے ہیں ۔ دو روز قبل ہوئی بارش سے مصیبتیں اور بڑھ گئی ہے ۔ گزشتہ کل مئیر کے پاس گئے تھے انہوں نے کہا تھا کہ پمپ بھیجتا ہوں ۔ ہم لوگوں نے کہا کہ آپ بھی یہاں خود آکر دیکھیں مگر آج چوبیس گھنٹے بعد بھی پمپ نہیں آیا ۔ ووٹ لینے کے لئے تو دن رات ایک کردیتے ہیں ۔ اس بارش کے پانی کی وجہ سے ہم کل کو بیمار پڑتے ہیں بچوں کو سردی کھانسی اگر ہوجاتی ہے تو یہ ہمیں کورونا مریض بتا کر اسپتال میں ڈال دینگے ۔ آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.