Take a fresh look at your lifestyle.

ہفتہ وار لاک ڈاؤن کا پہلا دن مگر جوٹ ملیں کھلی رہیں راستوں پر خلاف ورزی کرنے پر پولیس کی سختی یہ کیسا لاک ڈاؤن : عوام

0
ہگلی23/جولائی ( محمد شبیب عالم )  ریاستی حکومت کی ہدایت کے مطابق آج بروز جمرات ہفتہ واری لاک ڈاؤن کا پہلا دن تھا ۔ صبح سے ہی بانسبیڑیا سے لیکر آدی سپتو گرام ، موگرا ، بوڑوپاڑہ ، ہگلی ، کھادیناموڑ ، چنسورہ ، سوگندھاموڑ ، چندن نگر ، بھدریشور ، چاپدانی ، سیرامپور ، رشڑا ، اترپاڑہ ، کوننگر ، چنڈی تلہ ، آرم باغ ، تارکیشور اور کے علاوہ ضلع کے تمام گلی محلوں میں مختلف تھانے کی پولیس لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کے لئے چوکس نظر آئی ۔  غیرضروری طور پر باہر نکلنے والوں کو واپس گھر لوٹائی ۔  اسکے ساتھ ہی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کان پکڑکر اٹھ بیٹھ کروائی ۔ وہیں صبح سے ہی ضلع کے تمامی بازار  دکانیں بند رہیں ۔  لوگ پوری طرح سے لاک ڈاؤن پر عمل کرتے ہوئے گھروں میں ہی قید رہے ۔ یہاں تک کہ بچے بچیاں ٹیوشن تک بھی نہیں گئے ۔  اسطرح سے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہفتے واری لاک ڈاؤن کا یہ پہلا دن کامیاب رہا ۔  لیکن وہیں دوسری جانب بہت سارے لوگوں میں اس بات کی ناراضگی دیکھی کہ حکومت کی جانب سے سختی کے ساتھ لاک ڈاؤن پر عمل کرنے کی بات کہی گئی تھی ۔ مگر جوٹ ملیں کھلی رہیں آخر کیوں کیسے ۔ اسکے لئے کوئی الگ قانون بنی تھی ؟ بہت سارے لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ جوٹ ملوں کے اندر جہاں ایک ساتھ ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں وہاں کورونا وائرس پھیلنے کاخوف نہیں ہے ؟ آخر مزدوروں کے صحت سے کھلواڑ کیوں ۔  اس بات کو لیکر صبح سے ہی سوشل میڈیا فیسبک واٹس ایپ پر بھی خوب چرچا رہا ۔ کچھ لوگ مزدوروں کے صحت کو لیکر حمایت کرتے رہے تو کچھ لوگ بےروزگاری کا حوالہ دیتے دیکھائی دیئے کہ کام نہیں کرینگے تو کھائیں گے کیا ۔     اس کو لیکر ایک زرائع سے یہ بھی معلوم ہواکہ ریاستی حکومت کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران جوٹ ملوں کے مین گیٹ بند رہیں گے ۔ کسی بھی مزدور کو اندر آنے یا اندر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔  حالانکہ وہیں ریاستی انتظامیہ کے جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران مزدور کارخانے کے اندر رہتے ہیں تو انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔  اس معاملے میں سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں جوٹ ملیں بند رہیں گی ۔ لیکن کارخانے کے احاطے میں ہی مزدور ہیں تو انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔  وہیں جوٹ مل مالکان کا کہنا ہے کہ اس کے لئے انہیں اضافی خرچ اٹھانا پڑے گا ۔ کیونکہ مزدوروں کے رہنے اور انکے کھانے پینے کا انتظام کرنا پڑیگا ۔  کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا کہ پورے وقت کارخانے میں مزدور رہیں گے تو کوڈ – 19 انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے ۔   ادھر آج کارخانہ چالو رکھنے کے بارے میں ایک جوٹ مل انتظامیہ سے وجہ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہاں کام کرنے والے سبھی مزدور مقامی ہیں کوئی لمبی دوری طئے کرکے نہیں آتا ۔ سب یہی پاس پڑوس کے ہیں ۔    ان سے پوچھا گیا کہ جو لوگ کارخانے میں رہ گئے ہیں وہی لوگ کام کرینگے ۔ لیکن یہاں تو بات بلکل الگ ہے ؟ ساتھ ہی ان مزدوروں کےلئے کارخانے کے اندر ہی ناشتہ کھانے کا اہتمام کرنے کو کہا گیا تھا ۔ لیکن صبح دیکھا گیا کہ کئی مزدور کارخانے کے باہر صبح کا ناشتہ کرنے آئے تھے ؟  بہرحال اس قسم کے بہت سارے سوالات بہتوں نےکیا ۔ وہیں موگرا تھانے کی پولیس راستے پر نکلنے والوں سے الگ انداز میں دیکھائی دی ۔ منھ پر ماسک کی جگہ رومال باندھے شخص سے زوردار طریقے سے جواب طلب کرتی رہی کہ ماسک کہاں ہے ؟ ماسک کہاں ہے ؟ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ رومال باندھا تو ہے ۔ مگر پولیس اپنے انداز میں دیکھی اور بار بار تھانے میں چلنے کی بات کرتی رہی ۔ تو اسطرح سے اگر ان باتوں کو چھوڑ کر کہا جائے تو ہفتہ واری لاک ڈاؤن کامیاب رہا کہا جا سکتا ہے ۔  اب دیکھنا ہے کہ آئندہ سنیچر کو لاک ڈاؤن کا کیسا اثر ہگلی ضلع میں رہتا ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.