Take a fresh look at your lifestyle.

بی جے پی لیڈر منیش شکلا کوگولی مارنے کے بعد علاقے میں کشیدگی

شمالی چوبیس پرگنہ 5 اکتوبر:اتوار کی شام کچھ شرپسندوں نے ارجن کے قریبی بی جے پی رہنما منیش شکلا کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ بیرک پور آرگنائزنگ ڈسٹرکٹ کے ممبر منیش شکلا اتوار 4 اکتوبر کی شام 9 بجے کے قریب ٹیٹا گڑھ بی ٹی روڈ پر بی جے پی کے دفتر کے سامنے کھڑے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق تب ہی 4 موٹر سائیکل سوار شرپسند آئے اور ان پر 13-14 راو¿نڈ فائر کیا۔ ا±نہیں گلے ، کمر ، سر اور پیٹ میں گولی لگی تھی۔ فوری طور پر اپولو اسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن ڈاکٹروں نے اس مردہ قرار دے دیا۔ذرائع سے ملی خبر کے مطابق منیش شکلا واقعہ کے وقت ہوڑہ میں ایک میٹنگ سے واپس آرہے تھے۔ بیرک پور بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ارجن سنگھ بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ عینی شاہدین کا مزید کہنا تھا کہ شرپسند کھردہ کی سمت سے آئے تھے اور فائرنگ کے بعد واپس آئے چلے گئے۔واضح رہے کہ جس جگہ منیش شکلا کو گولی ماری گئی وہ جگہ پولیس اسٹیشن سے صرف 100 میٹر کی دوری پر ہے جس سے ہر کوئی حیران ہے کہ یہ کیسے ہوا۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پہلے سے منصوبہ بند ہے۔ کیونکہ اس واقعے میں نذیر خان نامی نچلی سطح کے رہنما کا نام سامنے آرہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق نذیر آج شام سے ہی اس علاقے میں گھومتا ہوا نظر آیا تھا۔ جس وقت یہ ہوا ، نذیر کو آخری مرتبہ مخالف گلی میں چائے کی دکان پر دیکھا گیا تھا۔دوسری جانب بیرک پور پولیس کمشنر منوج ورما اور اجے ٹیگور اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے۔ صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لئے علاقے میں آر اے ایف کو تعینات کیا گیا تھا۔دریں اثنا واقعہ کی اطلاع ملنے پر ارجن سنگھ نے الزام لگایا کہ یہ ترنمول پارٹی اور پولیس کی جانب سے ایک منصوبہ بند واقعہ ہے۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی بی جے پی قائدین مکل رائے ، ارجن سنگھ اور بی جے پی کے دیگر رہنما واقعے کی رات منیش شکلا کے گھر پہنچ گئے۔اس واقعے کے فوراً بعد ہی ، منیش شکلا کے پیروکاروں نے بی ٹی روڈ کو تقریباً ایک گھنٹے تک بلاک کردیا۔ انہوں نے پولیس کمشنر منوج ورما کے گرد بھی احتجاج کیا۔بعد ازاں پولیس نے ناکہ بندی ختم کردی۔اس معاملے میں نچلی سطح پر انگلی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ لیکن ترنمول کے رہنماو¿ں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترنمول اس طرح کی قتل و غارت کی سیاست میں ملوث نہیں ہے۔تاہم مختلف سیاسی حلقوں میں پہلے ہی طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں کہ شام کے وقت کس طرح بی جے پی کے ایک سرگرم رہنما کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔پولیس نے ابھی تک اس واقعے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پورے بیرک پور لوک سبھا حلقہ میں تناو¿ پھیل گیا ہے۔دوسری طرف بی جے پی قائدین اور کارکنان اس واقعے پر سخت ناراض ہیں۔ لہٰذا آج انہوں نے بیرک پور لوک سبھا حلقہ کو 12 گھنٹوں کے لئے بند رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.