Take a fresh look at your lifestyle.

نڈ اپر حملے کو لے کر وزارت داخلہ کی چیف سکریٹری و ڈی جی سے جواب طلب “

کولکاتا۔ 11دسمبر: بھا جپا کے قومی صدر جے ، پی نڈا اور ان کے سیاسی رفقاءپر جو شیراکل میںحملہ ہو ا اس حملے میں نڈا تو سلامت رہے مگر ان کے رفقاءکی گاڑیاں اور کئی لیڈران اینٹ پتھر کی زد میں آکر بری طرح زخمی ہوئے گاڑیوں کے سیشے چور چور ہوئے ۔ جس کی پورٹ گورنر تک گئی تو انہوںنے ترنمول کے حامیوں کی اس قابل مذمت کارروائیوں کا مفصل بیان مرکزی حکومت کے ہاتھوں سونپ دیا ۔ اب اسی سنگین معاملے کی جوابدہی کیلئے مرکزی وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور پولس کے سربراہ کو 14دسمبر تک ریاست میں لااینڈ آرڈر کی موجودہ حالات کی تفصیل چاہی۔ جگدیپ دھنکر جو پولس انتظامیہ و منظم کاروں سے متفق نہیں ہیں کہا کہ جب اتنا کچھ ہوچکا تھا تو اس وقت پولس و انتظامیہ کی کیا پیش رفت رہی ۔ جمعرات کو ایک سیاسی تھنگ کو خطاب کرنے کے بعد جے ، پی نڈا ڈائمنڈ ہاربر سے لوٹ رہے تھے اور ٹھیک شیرا کل کے مقام پر ترنمول حامیوں نے ان کی بلٹ پرو ف گاڑی پر پتھر اﺅ کیا گرچہ وہ اس متوقع حملے سے بچ گئے ۔ مگر ان کے ہمراہ دلیپ گھوش ، موکل رائے وانوپم ہاجر کی گاڑیوںکو کافی نقصان پہنچا ان میں سے کئی لیڈر زخمی بھی ہوئے ۔
ان ہی سنگین واردات کے بعد گورنر تو آپے سے باہر ہوگئے ۔ مگر سارا کچھ مرکزی حکومت کے گھوش گزار کردیا ۔اب مرکزی وزارت داخلہ چیف سکریٹری الاپن بندو پادھیائے اور بنگال کے پولس ڈائریکٹر جنرل وریندر سے ایسے سنگین حالات وارد ہونے پر جواب طلب کیا ہے ۔ انہیں یہ جواب 14دسمبر تک دے دینا ہوگا۔ بنگال کے گورنر نے کھلے لفظوں میںکہہ دیا ہے کہ بنگال میں ممتا حکومت بدعنوانی و شرپسندی کو فروغ دے رہی ہے ۔ لاقانونیت و بدامنی پوری ریاست کا نصیب بن چکا ہے یہاں پر بھاجپا کے لیڈران پر برابر حملے ہورہے ہیں۔ ورکروں کا کھلے عام قتل کیا جارہا ہے اور ممتا بنرجی بیان بازی میں لگی ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.