Take a fresh look at your lifestyle.

آن لائن امتحان سے طلباو طالبات تنظیم راضی نہیں

0

کولکاتا۔15جون: کلکتہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین نے آن لائن امتحان کے خلاف جم کر آوازیں اٹھائیںکہا کہ یہ طریقہ¿ کار ایک دم سے مشکل ترین کام ہے۔ رہ رہ کر سائٹ میں نقص بھی پید ا ہوتے ہیں حالانکہ طلبا و طالبات پہلے سے ہی کہہ رہے تھے کہ جون کے مہینے میںامتحان کو ملتوی کردیا جائے اور پھر اسی فیصلے کو حکومت نے بھی مان لیا ۔ طلباءو طالبات نے حکومت کے اس مثبت فیصلے کے بعد کہا کہ یہ ہم لوگوں کی آئینی جنگ تھی جو ہمارے حق میں ہوا لیکن آن لائن امتحان کی بھی حالت میں اس کا متبادل نہیں ہوسکتا ہے ۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بھی ہندستان کے تین تہائی طلبا و طالبات آن لائن سسٹم سے ناواقف ہیں اور اس طرح کے امتحان کے رمز سے بھی وہ بے بہرہ ہیں۔ اس جواز کے بعد ہی حکومت نے فیصلہ لیا کہ طلبا و طالبات کیلئے یہ متبادل ہوگا کہ و ہ ہم ایسائمنٹ (50فیصد) نیز آگے کا سمسٹر / سال کے بہتر مارکس کی بنیاد پر (50فیصد) ہوں گے اور ہوم ایسائمنٹ کے معاملے میں آن لائن کو پابند نہیں کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ زیادہ تر طلبا و طالبات کے پاس کمپیوٹر بھی نہیں ہیں ۔ اب حکومت کی پالیسی کے مطابق طلبا وطالبات مختلف سرکاری دفاتر ، ضلع ناظم کوریئر کے ذریعہ بھی جمع کرسکتے ہیں کوریئر کا خرچ یونیورسٹی کے ذمہ ہوگا اور جو آن لائن سے امتحان کا پرچہ حل کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کی پوری آزادی ہے۔
مکل رائے کی پارٹی بدلنے کی خبر گر م ہونے پر سےاسی گلےاری میں بھونچال
کولکاتا 15جون : سےاسی گلےاروں میں اب ےہ بات مشہور ہو رہی ہے کہ مکل رائے کو بی جے پی حکومت مرکز میں وزیر کے عہدے پر فائز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ ےہ اٹکل کہاں تک درست ہے اس کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھا ہے ۔ مگر اےک خاص روزنامے نے اس کا دعویٰ ضرور کےا ہے ۔ حتی کہ مکل رائے نے ترنمول کانگرےس کے بڑے لیڈران سے مئی او جون کے درمےان اےک اہم گفت و شنید کی تھی ۔ ا س کی خبر لگتے ہی بی جے پی کے اندر کھلبلی مچ گئی اور اب وہ مکل رائے کو مرکزی وزارت کا حصہ بنانے پر غور و فکر کر رہی ہے ۔ اب تک ےہ معاملہ رکا ہوا تھا کےونکہ مکل رائے پر سی بی آئی کی نظر خاص ہے اور ےہ دفتر خود وزیر اعظم کے زےر ہداےت چل رہی ہے ۔ ےہی وجہ تھی کہ مکل رائے کو بی جے پی کوئی بھی عہدہ دےنے میں حق بجانب نہ تھی کےونکہ مکل رائے جو سی بی آئی کے گھےرے میں ہیں اور وہ بڑے عہدے پر چلے گئے تو نیچے سے اوپر تک پارٹی کے لوگوں میں کئی سوالات مودی جی کے خلاف اٹھ سکتی تھیں ۔ ےہاں تک کے بنگا ل میںکرورنا و امفان کی تباہی کے پیش نظر جتنے بھی سماجی و سےاسی کام تھا سبھی کی ذمہ داری رےاستی صدر دلیپ گھوش کے سپرد کر دی گئی تھی ۔ مکل رائے کو ا س میں شامل نہیں کےا گےا تھا ۔ اب جو مکل رائے کا ترنمول سے ساز باز ہور ہا ہے جسے روز نامے اچھال رہا ہے تو مکل رائے نے کھل کر اس افواہ کی تردیدکر دی ہے اور بی جے پی کے ساتھ وفاداری کی تصدیق کی ۔ مکل رائے نے کہا کہ انہیں گدی کا شوق نہیں ہے اور کرونا کے وقت ےہ ساری باتیں فضول ہیں ۔ اےسے میں پارٹی بدلنے کی جوباتیں اور افواہ گر م ہیںوہ بےکار کی باتیں ہیں ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.