Take a fresh look at your lifestyle.

پٹاخے،آتشبازی فیکٹری مالکان کا حکومت سے دوبارہ نظرثانی کی درخواست

کولکاتا4 نومبر:حکومت مغربی بنگال نے لوگوں کومتنبہ کردیا ہے وہ کالی پوجا اوردیوالی میں آتش بازی و پٹاخے سے باز آجائیں۔ کیوں کہ کوویڈ-19 کے ا س ماحول میں آتش بازی اور پٹاخے کے دھوئیں سے مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد پٹاخہ بنانے والا ایسوسی ایشن نے اعلیٰ حکام کواس پر دوبارہ سے نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ صدر بنگال کے آتش بازی سمیتی کے بابلا رائے نے صحافیوں سے یہ کہا کہ اس ریاست میںچار لاکھ لوگوں کا یہ روزگار ہے ان میں کمائی سے ان کی زندگی چلتی ہے۔ ایسے میں اگراس پرپابندی عائد کردی گئی توپٹاخے بنانے والے ورکروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے وہ بے روزگار ہوجائیں گے چار لاکھ پٹاخہ کاریگروں میں سے دولاکھ تو چمپا ہائی ننگی ضلع کے ہی ہیں رائے نے اس کی وضاحت کی۔ رائے نے یہ بھی شکایت کی کہ حکومت نے فیصلہ لینے میںجلد بازی کی اورگائیڈ لائن جاری کرنے بھی دیر نہ لگائی ۔ اب اگر آتش بازی پٹاخے پرپابندی لگ جاتی ہے تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے جو پہلے سے ہی لاک ڈاﺅن میں بھکمری کے شکار ہوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ اس عجلت میں فیصلے کے بعد جوآتش بازی و پٹاخے پرخرچ ہوچکے ہیں وہ بھی ساراکاسارا بےکاروپانی میں گیا۔رائے نے یہ بھی کہاکہ اگرپٹاخے پر پابندی لگ جاتی ہے توچوری چھپے ہرطرف پٹاخہ و آتش بازی کا سیلاب امڈ پڑ ے گا پھر ہرطرف پٹاخے وآتش بازی کے دھوئیں ماحول کو زہریلا کرتارہے گا۔ہمارے یہا ں پٹاخہ بنانے والے کاریگر جو دھماکے کے معاملے میں 85-80 ڈسیبل تک رکھتی ہیں اب اگرناجائز طریقے سے پٹاخے مارکیٹ میںآجائیں گے تو یہ مقررہ قوانین سے متجاویز ہوگا۔ ماہرماحولیات اجئے کمار ڈے نے کلکتہ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کیا ہے کہ آتش بازی و پٹاخے پردیوالی و کالی پوجا میں مکمل پابندی لگائی جائے ۔ کوویڈ-19 کے سنگین حالات کو دیکھتے ہوئے چیف سکریٹری الاپن بندوپادھیائے نے بھی کالی پوجا اوردیوالی میںسبھوں کو پٹاخے سے دوررہنے کی تلقین کی ہے۔ انتظامیہ بھی لوگوں کو آتش بازی سے منع کیاہے۔ مغربی بنگال پولیوشن کنٹرول بورڈ نے کڑے قدم اٹھانے کے لئے پولس کو بھی ساتھ لیا ہے خاص کرمضافات واپارٹمنٹ کے حلقے کے لئے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.