Take a fresh look at your lifestyle.

کوروناسے نوکری اور سیلاب سے بے گھرمالدہ کے عوام

مالدہ،30جولائی:مالدہ ضلع کے عوام ایک طرف کوروناکی مار جھیل رہے ہیں تو دوسری جانب سیلاب نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔اسطرح وہ دوہری مار جھیل رہے ہیں۔دس دن گزرنے کے باوجود بھی وہ سرکاری امداد سے محروم ہیں۔ کرونا نے لوگوں سے روزگار چھین لیا اور سیلاب نے انہیں بے گھر کردیا۔ سیلاب کے پانی سے لوگوں کے گھر زیر آب آگئے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے دن گزار رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ لوگوں کو پینے کے پانی کے لئے کشتی سے گاو¿ں تک بھٹکنا پڑتا ہے۔ سیلاب کی زد میں موچیا گرام پنچایت کے گاو¿ں بدھان نگر کے ندی کنارے پر 10 سے 15 مکانات کو دریا کے کٹاو¿ کا خطرہ ہے۔ ان میں سے آدھے مکانات دریا برد ہوسکتے ہیں۔ اولڈ مالدہ بلاک کے مچیا گرام پنچایت کے پانچ سات گاﺅں سیلاب کی زد میں ہیں۔ ان دیہاتوں میں دریائے مہانندا کا پانی بھر گیا ہے۔ یہ گاﺅں مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں۔ لوگ 10 دن سے زیادہ عرصے سے سیلاب سے لڑ رہے ہیں۔ یہاں کے لوگوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ابھی تک کوئی عوامی نمائندہ ان کی دیکھ بھال کرنے نہیں پہنچا ہے۔ عوامی نمائندوں اور مقامی انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف لوگوں میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ پرانے مالدہ پنچایت سمیتی کی چیئرپرسن ، مسرینی منڈل مائتی نے کہا کہ موچیا گرام پنچایت کے بہت سے گاو¿ں سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے ذریعہ سیلاب متاثرین کو امدادی سامان کی فراہمی کی پہل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کےلئے پانی کے ٹینک بھیجے جارہے ہیں۔ لوگوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقے میں آمدورفت کےلئے ایک کشتی دی گئی ہے۔ پنچایت اور انتظامیہ ذرائع کے مطابق موچیا گرام پنچایتوں کے سندیاپاڑا ، باروئی پاڑا ، چارلکشمی پور ، شیو گنج ، بدھان نگر سمیت متعدد دیہات 10 دن سے زیادہ سے دریائے مہانند کے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ ان دیہاتوں کے سیکڑوں خاندانوں نے کھلے آسمان تلے دن گزارنے کو مجبور ہےں۔ ان کےلئے کھانا اور پانی جمع کرنا مشکل ہے۔ مویشیوں کےلئے پانی کا مسئلہ درپیش ہے۔ لوگوں کو پینے کے پانی کےلئے گاﺅں سے گاو¿ں تک بھٹکنا پڑرہا ہے۔ جب وہ پانچ سے سات کلومیٹر دور جاتے ہیں پھر بھی پینے کا پانی میسرنہیں ہوتاہے۔ انہیں بچوں کے کھانے پینے کی اشیا کے لئے بھی بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں نے بتایا کہ ابھی تک نہ تو پنچایت اور نہ ہی انتظامیہ کو کوئی مدد مل سکی ہے۔ دوسری جانب موچیا گرام پنچایت کی سربراہ شبھل کشمی گون نے بتایا کہ ان کے علاقے کے بہت سے دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران میں زون میں میٹنگ کرکے فلڈ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی ممبران متاثرہ علاقے میں لوگوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں بلاک انتظامیہ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی سامان سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ترپال سمیت دیگر اشیاءبھیجنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.