Take a fresh look at your lifestyle.

پولیس اور سوک وولنٹیئر پرخاتون کےساتھ جنسی زیادتی ماں بیٹے کو مارنے پیٹنے کا الزام

0

ہگلی16/ستمبر ( عوامی نیوز بیورو ) گزشتہ کل رات کو گوڑاپ تھانہ کے تحت ندام پور موڑ ایک چائے دکان کو بند کروانے کے معاملے کو لیکر پولیس پر الزام لگایا گیا کہ زور زبردستی دکان بند کر دینے کو کہا گیا۔ ان کے خلاف الزام تھا کہ اسی چائے کی دکان سے بی جے پی پارٹی دفتر چل رہا ہے۔ اسی بات کو لیکر پولیس اور سوک وولنٹیئر دکاندار پر لاٹھیاں برسانے لگے۔ مقامی زرائع سے ملی اطلاع کے مطابق گزشتہ کل رات ساڑھے دس بجے کے قریب چائے دکاندار کوشل دھارا اور اسکی ماں کرشنا دھارا اپنی دکان میں تھے۔ کرشنا کے مطابق انکا دکان ہی گھر ہے۔ رات کو بیٹا ماں کو بستر لگانے کو کہا اور وہ باہر بیٹھا تھا کہ اسی وقت کچھ وولنٹیئر آئے اور کوشل کو کہنے لگے کہ چائے دکان دیکھا کر بی جے پی پارٹی دفتر چلایا جارہا ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس پر حملہ کردیا۔ کوشل بچاو¿ بچاو¿ کے ساتھ شور مچانے لگا۔ ماں باہر نکل کر دیکھتی ہے کہ اس کے لڑکے کو بےرحمی سے کچھ پولیس والے پیٹ رہے ہیں۔ جیسے ہی وہ بچانے گئی۔ انکے سر پر بھی لاٹھی سے حملہ کردیا۔ وہ چیخنے چلانے لگی کہ آخر اسکے لڑکے کو کیوں مار رہیں ہیں۔ مگر وہ لوگ ایک نہ سنا یہاں تک کہ ماں کو بھی لات گھونسوں سے مارا گیا۔ اسکے کپڑے بھی پھاڑ دیئے گئے۔ یہ تمام باتیں آج دوپہر کے وقت چنسورہ اسپتال میں زیرِ علاج کرشنا دھارا نے صحافیوں کے سامنے گوڑاپ تھانے کی پولیس اور سوک وولنٹئیر کے خلاف الزام لگاتے ہوئے اور بولی کہ اسکے ساتھ مرد پولیس زیادہ پر اتر گئے تھے۔ اس کہا کہ پولیس والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ادھر سائڈ میں چل تیرا بندوبست ہم کرتے ہیں۔ کھینچا تانی میں اسکے سینے کپڑے بھی بھٹ گئے۔ ادھر اس واردات کی اطلاع ملتے ہی کرشنا کا ایک اور بیٹا سبرتو دھارا اور شوہر سنجیت دھارا بھی موقعے پر پھچ گئے۔ زخمی حالت میں ماں اور بھائی کوشل کو گوڑاپ پلاسی گرامین اسپتال لے گئے۔ آج صبح ماں کی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے انہیں چنسورہ امام باڑہ اسپتال منتقل کردیا۔ اس دوران ماں کرشنا دھارا سے پوچھا گیا کہ آخر کیوں کس وجہ سے پولیس نے مارا ہے ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں میرا لڑکا میں کسی کے چکر میں نہیں رہتا ہے۔ ہم لوگ غریب ہیں چائے دکان چلاکر پیٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے اور کہا کہ علاقے میں کچھ دن پہلے کسی سے کوئی لڑائی جھگڑے ہوئے تھے۔ اسکے دوسرے دن دو سوک وولنٹئیر آئے اور کہہ کر گئے کہ دکان بند کردینا ورنہ ہم مار پیٹ کر اٹھا کر لے جائیں گے اور سوموار کی رات وہ لوگ آئے اور بےغیر کچھ کہے سنے کوشل کو مارنے پیٹنے لگے۔ ادھر اس واردات کی اطلاع ملتے ہی شام پانچ بجے کے قریب ہگلی ضلع بی جے پی صدر کے ہدایت پر کئی رہنمائ امام باڑہ اسپتال پہنچ گئے۔ ان کی حالت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں اس چائے کی دکان پر مقامی بی جے پی کے کچھ رہنمائ و کارکنان اڈہ مارتے تھے۔ اسی کے وجہ سے ان پر حملہ کیا گیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.