Take a fresh look at your lifestyle.

دستور ہند سے ’سیکولر‘ اور ’سوشلسٹ‘ لفظ ہٹانے کا مطالبہ سپریم کورٹ میں عرضی داخل

نئی دہلی30جولائی: آئین کی تمہید میں 42 ویں ترمیم کے ذریعے شامل ’سیکولر‘ اور ’سوشلسٹ‘ الفاظ کو ہٹانے کے لئے بدھ کے روز سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی۔ وکلاءبلرام سنگھ اور کرونیش کمار شکلا نے یہ درخواست ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین کے ذریعہ دائر کی ہے ، جس میں سیکولر اور سوشلسٹ الفاظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ آئین کی تمہید میں موجود الفاظ سیکولر اور سوشلسٹ انتہاپسندوں کی آنکھ میں ہمیشہ سے کھٹکتے رہے ہیں اور آر ایس ایس کے لیڈران کھلے طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ان دونوں الفاظ کو آئین کی تمہید سے ہٹا دینا چاہیے۔درخواست گزاروں نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 29 اے (5) میں بھی ان دونوں الفاظ کے اضافے کوچیلنج کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی کے ذریعے شہریوں پر سیاسی نظریہ تھوپا جا رہا ہے ، کیونکہ حقیقت میں سیکولرازم سوشلزم سیاسی نظریہ ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندراج کے لئے بھی ان پر رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ آئین کی تمہید کے ذریعے یہ سب مان لینے کے بعد مذہبی آزادی یعنی اپنے عقیدے یا مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حقوق کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے۔ یہ دونوں الفاظ اس میں آئینی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ 26 نومبر 1949 کو بنیادی تمہید کے ذریعے جو عزم ملک کے عوام نے کیا تھا اس میں ترمیم کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر کچھ تبدیلی، ترمیم یا ردوبدل کرنا ہے تو تمہید یعنی عزم نئے سرے سے کرنا پڑے گا۔رواں سال کے آغاز میں آر ایس ایس کے کنوینر نندر کمار نے بھی کہا تھا کہ لفظ ’سیکولر‘ کی آئین میں شمولیت پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکولرازم ایک مغربی تصور ہے جس کا ہندوستانی ثقافت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے! خبر رساں ایجنسی آئی این ایس کو دئے گئے ایک انٹرویو میں نند کمار نے کہا، ”سیکولرزم ایک مغربی تصور ہے۔ یہ مغرب سے آیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.