Take a fresh look at your lifestyle.

تاجر سے این ٹی پی سی افسر رشوت لیتے ہوئے سی بی آئی کے ہاتھوں گرفتار

0

کولکاتا/رانچی،5،ستمبر:سی بی آئی رانچی (اے سی بی) نے جمعہ کی رات راجدھانی رانچی کے ہوٹل ریڈیسن بلو سے این ٹی پی سی کے سیفٹی منیجر ساگر مینا کو 3 لاکھ روپے رشوت کے ساتھ گرفتار کیا۔ سی بی آئی ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ پی پی ای کرونا سے بچاو¿ کےلئے پی پی ای کٹ سمیت دیگر سامان کی فراہمی کرنے والوں سے چیک کے زریعہ 3 لاکھ روپے رشوت لی جارہی تھی۔بتایا جارہا ہے کہ کرونا کے خلاف حفاظت کے لئے مختلف قسم کے مواد این ٹی پی سی (بارکاگون) ہزارہ باغ میں خریدا گیا تھا۔ کولکاتا میں مقیم ایک سپلائی کنندہ نے پی پی ای کٹس ، سینیٹائزرز ، گلوبز اور دیگر سامان فراہم کیا۔اس سامان کی فراہمی پر 70 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ اس رقم کی ادائیگی کےلئے سیفٹی منیجر نے دس فیصد کی شرح سے سات لاکھ روپے رشوت طلب کی تھی۔ سپلائی کنندہ نے رانچی سی بی آئی کو شکایت کی۔اس کے بعد سپلائی کرنے والے کی شکایات پر جانچ پڑتال کی گئی اور سپلائی کنندہ کی بات ٹھیک پائی گئی۔ جس کے بعد منصوبہ بند طریقے سے کولکاتا سے رانچی آنے کے بعد انہوں نے پہلے مرحلے میں رشوت دینے کی بات کہی۔ نیز نقد رقم لے کر سفر کرنے میں دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے رشوت کی رقم چیک کے ذریعہ دینے کی بات بھی کی۔سپلائر سے بات چیت کی بنیاد پر سیفٹی منیجر رشوت کی رقم حاصل کرنے کےلئے رانچی کے ایک بڑے ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ سپلائی کرنے والا بھی کولکاتا سے رانچی پہنچا اور جمعہ کی رات سیفٹی منیجر کو تین لاکھ روپے کا چیک دیا۔ موقع پر سی بی آئی عہدیداروں نے سکوریٹی منیجر کو چیک کے ساتھ پہلے ہی گرفتار کرلیا ، چیک پر وصول کنندہ کی بجائے سیفٹی منیجر کا نام لکھا ہوا ہے۔سی بی آئی کی ٹیم ہزاری باغ میں انجینئر کی رہائش گاہ کی بھی جانچ کررہی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.