Take a fresh look at your lifestyle.

حکومت کی منظوری کے باوجود ٹیکسی کرائے میں جبراً اضافہ

کولکاتا،4اگست: شہری میں دوڑنے والی ٹیکسی کے ڈرائیور اب اپنے سواریوں سے فاضل کرائے لینے پر بضد ہیں جب کہ حکومت کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت نہیں آئی ہے۔ حالانکہ ڈیزل کی قیمت میں بڑھوتری کی وجہ سے شہر کے تمام ٹیکسی ڈرائیوروںکا حال برا ہے اور وہ برابر اپنے خسارے سے جن سے جنگ کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔ اس لاک ڈاو¿ن کے ماحول میں تمام ٹیکسی ڈرائیور کے قول کے مطابق اب تو مالیاتی بحران کا مسئلہ ہے تین ٹیکسی یونین کے ممبران نے ایسا ہی کہا ہے۔ کولکاتا ٹیکسی آپریٹر س، یونین اور کولکاتا ٹیکسی ایسوسی ایشن نے پچھلے مہینے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ راستے پر سے ٹیکسی سر وس کو روک دینگے اگر 14 جولائی تک ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے پھر 15 جولائی سے پیلی ٹیکسی آپریٹرس نے یہ فیصلہ لیا کہ وہ یکم اگست سے اپنے سواریوں سے فاضل کرائے وصول کرینگے۔ حالانکہ اس معاملے میں ریاستی ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے کوئی بھی فیصلہ نہیں سنایا۔ بی ٹی اے کے ممبران نے پھر یہ فیصلہ کیا کہ پچاس روپے بیسک کرائے ہے کیلو میٹر کے لئے یکم اگست سے مطالبہ کریں گے۔ اگر حکومت نے ان کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی نہ کی اور اس کے بعد ریاستی رضا مندی کے باوجود وہ نئے کرایے وصول کرنے کے مجاز ہوں گے بی ٹی اے کے جنرل سکریٹری بمل گوہا نے کہا کہ وہ ریاستی نقل و حمل شعبے کو خط لکھ کر نئے کرایے کے لئے کہہ دیا ہے اس کے بعد بھی کوئی اشارہ نہ ملا تو ہم لوگ نئے کرایے لینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.