Take a fresh look at your lifestyle.

تیلنی پاڑہ: بم بازی سے فضا مکدر،سنگ باری کی برسات ،پولیس تماشائی ،حالات مخدوش

0

ہگلی12/مئی ( عوامی نیوز بیورو )ابھی پورے ملک میں کورونا وائرس کے مرض میں جتنے لوگ متاثر نہیں ہوئے اس سے کہیں زیادہ ہندستانی اقلیتیںکورونا کی آڑ میں نفرت کے شکار ہوگئیں اور اسی کورونا کے نفرت میں گزشتہ تین دنوں سے ہگلی ضلع کے تیلنی پاڑہ بھدریشور کے لوگ نشانہ بنے ہوئے ہیں ۔گزشتہ اتوار کی شام جو ہوا یہاں دو فرقوں کے درمیان نفرت کی چنگاری بھڑک اٹھی۔ دوسرے دن یعنی سوموار کے روز دن بھر بالکل خاموشی رہی ۔ مگر یہاں کےلوگوںکو کیا پتہ تھا کہ چنگاری بجھی نہیں ہے وہ اندر ہی اندر سلگ رہی ہے اور آج تیسرے دن یعنی منگل کی صبح گیارہ بجے اچانک سے یہ چنگاری اس قدر بھڑکی کہ پورے علاقے کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ اچانک بم کی آواز سنائی دی اور تھوڑی ہی دیر میں پورا تیلنی پاڑہ بموں کی آواز سے گونج اٹھا ۔ گلی محلوں میں بھگدڑ سی مچ گئی۔ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آنے لگی ۔ کئی لوگ زخمی ہوگئے مگر کیا کرتے پولس کی خوف سے وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکے اور اگر نکلتے تو جاتے کہاں ڈاکٹر کہاں ہیں ۔آج مقامی زرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تیلنی پاڑہ راجہ بازار میں میونسپلٹی فلیٹ کے پاس اچانک کچھ شرپسند آئے اور وہاں پتھر بازی شروع کردیا ۔ لوگ حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوگیا ۔ ابھی یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ فیض احمد فیض اسکول کے قریب شگون بگان علاقے میں بالکل اسی عمل کو دہرایا گیا اور تھوڑی ہی دیر میں چاروں جانب سے مخصوص علاقوں کو شرپسندوں نے اپنی گرفت میں لے لیا ۔ چاروں طرف سے بم اندازی آگ زنی شروع ہوگئی ۔ ساتھ ہی اینٹ پتھروں کی برسات بھی ہونے لگی۔ حالانکہ پولس یہاں گزشتہ اتوار کی رات سے پہریداری پر مستعد ہے ۔ مگر اس کے باوجود بھی شرپسندوں نے اتنی بڑی جسارت کی۔ لوگوں کی شکایت ہےکہ پولس بھی شرپسندوں کا ساتھ دے رہی ہے وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور رہ رہ کر گلی محلوں میں آنسو گیس کے گولے داغ کر فرار ہو جارہی ہے ۔ یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ حالات اس قدر بےقابو ہوگئے کہ گھر کی عورتیں ،بزرگ ،بچے خود کو محفوظ کرنے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔گھروں سے رونے کی آوازیں آرہی تھی ۔ رحم دعائوں کی صدائیں بلند ہونے لگی ۔ لیکن انکی آواز کو کوئی سنے والا کوئی نہیں تھا ۔ یہاں کے رہنے والے دوسرے علاقے کے جان پہچان والے لوگوں سے مدد کی گزارش کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمارے لئے کچھ کریں پولس ہماری باتیں نہیں سن رہی ہے ۔ ادھر تیلنی پاڑہ کی آج تازہ صورتحال پر دوسرے علاقے سے لوگ چندن نگر کے سی پی ، اے سی پی اور دیگر اعلیٰ افسران سے ان مظلوموں کی حفاظت کی گہار لگارہے تھے ۔ مگر نتیجہ صفر رہا ۔کچھ لوگوں نے تو یہ بھی الزام لگایا کہ دریا پار کانکی نارہ سے بی جے پی ایم پی نے اپنے لوگوں کے زریعہ ہتھیار کی سپلائی کروایا ہے اور اسی کے سہہ پر آج اتنا بڑا واردات پیش آیا ہے ۔دوسری اہم بات آج جو یہاں حالات بگڑی ہے۔ اسکا قصوروار ایک شخص ہے جس نے صبح دس بجے سے قبل وہ اپنے فیس بک آئی مخصوص نعرہ پر براہ راست وڈیو جاری کرکے یہ کہہ رہا تھا کہ ” چندن نگر بھدریشور اور تیلنی پاڑہ کے تمام مرد سن لو اب سینا تان کر کھڑے ہوجاؤ تشدد آمیز نعرہ کے ذریعہ لڑائی پر اتر جاؤ ۔ رونا مت روؤں مار کھاکر اپنی تصویریں فیس بک پر پوسٹ کرکے مت روؤں ۔ کیا تم بھول گئے دت پوکھر کے لوک ناتھ پوجا کے دن مقابلہ کیسے کیا تھا ۔ اس دن مار کا بدلہ مار سے لیا تھا ۔ گوبر ڈانگہ کے سے سبق لو مار کا بدلہ مار سے لیا تھا ۔ تو آپ لوگ کیوں نہیں کرسکتے آپ رونا چھوڑیں اور اس نے کہا کہ یہی کہوں کہ تم ایک کو مارو گے تو ہم تین کو ساتھ لیکر مریں گے ۔وہ لوگبہت ڈرپوک ( بھیتو ذات ) ہیں کسی پر حملہ کرنے کے لئے کبھی اکیلا نہیں جاتے ہیں ایک کو مارنے کے لئے سو لوگ جاتے ہیں ۔ یہ شخص مسلسل تین منٹ 56 سکنڈ تک وڈیو پرلوگوں کو اکساتارہا ۔اسکے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہی تیلنی پاڑہ کی فضاء آلودہ ہوگئی اور حالات بے قابو ہوگئے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ دوپہر کے وقت شگون بگان کے قریب قبرستان میں بھی بم ماری گئی ۔ وہیں گڑھ دھڑ نامی علاقے کی ایک باڑی جہاں چالیس پچاس لوگ رہتے تھے اس پوری باڑی کو توڑ پھوڑ کر لوٹ لی گئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ فیض احمد فیض اسکول کے قریب رہنے والا گڈو نامی لڑکا شدید طور پر زخمی ہواہے ۔ اس کے پیٹ سینے اور سر پر گہری چوٹ آئی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دریا کے اس پار بھانٹ پاڑہ جگتدل اور بھی کئی جگہوں سے بی جے پی اوران کے حواری علاقے میں داخل ہوگئے ہیں اورممتابنرجی کے کازکو کمزور کرنے کےلئے سیاسی فضا مکدر کی جا رہی ہے۔ گھروں کو توڑ پھوڑ کر آگ لگائی جا رہی ہے ۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بارکپور کے بی جے پی ایم پی اور یہاں کی ایم پی لاکٹ چٹرجی کے اشارے پر آج یہ سب ہورہا ہے ۔ لاکٹ پہلے بھی کئی بار اقلیتوںکے خلاف زہر اگل چکی ہےں ۔ کل بھی انہوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ شام کو پانچ بجے پولس کی بڑی گاڑی یہاں آئی ہے ۔تب سے علاقے میں تھوڑی خاموشی ہے ۔ مگر پل کے پاس بازار میں گھاٹ کے قریب چند شرپسند کھلے عام بیٹھے ہوئے ہیں پولیس انکے علاقوں میں جاتی تک نہیں ہے اور صرف مخصوص فرقہ کو دیکھتے ہی دوڑا رہی ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.