Take a fresh look at your lifestyle.

ترنمول ٹریڈ لیڈر شمیم انصاری کا GRSE کمپنی میں مقامی لوگوں کو کام دئے جانے کی مانگ پراحتجاج شمیم انصاری سستی شہرت کیلئے ڈرامہ کررہے ہیں: انٹک لیڈر محمد مختار

کولکاتا،2،ستمبر: گارڈن ریچ میں واقع دفاعی جہاز ساز کمپنی GRSE میں مقامی نوجوانوں کو کام دئے جانے کی مانگ پر کمپنی میں سرگرم ترنمول ٹریڈ یونین کے جنرل سیکریٹری شمیم انصاری نے صبح گیٹ نمبر ایک کے پاس ایک بڑی احتجاجی میٹنگ کرتے ہوئے کمپنی میں علاقائی لوگوں کو کنٹراکٹ لیبر میں لئے جانے کی مانگ کی۔ اس موقع پر شمیم انصاری کنٹراکٹروں کو باہری لوگوں کو کچھ علاقائی لوگوں کی ملی بھگت سے لاکر کم اجرت میں کام کرانے کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم اس تعلق سے نمائندے سے بات کرتے ہوئے شمیم انصاری نے بتایا کہ لاک ڈاو¿ن کے دوران کمپنی میں کام کرنے والے ہمارے نوجوانوں کو بیٹھایا گیا تھا لیکن اب جبکہ وہاں مکمل طور پر کام ہورہا ہے تو ہمارے لڑکوں کے بجائے بہار یوپی سے سستے ورکرس لاکر کنٹراکٹر اپنا کام کروارہے ہیں اور یہ سب کچھ لوکل لیڈران سے ملکر کیا جارہا ہے انہوں نے خاص طور انٹک لیڈر محمد مختار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ کنٹراکٹرو سے لاکھوں روپیہ لیکر انہوں نے اس سلسلے میں اپنی انکھیں بند کرلی ہیں ۔شمیم انصاری نے مزید کہا کہ کمپنی میں کام کرانے والے کنٹراکٹروں کو بذات خود جی آر ایس ای مینجمنٹ نے بھی مقامی لوگوں کو کام دینے کی وکالت کی ہے لیکن کنٹریکٹر انٹک لیڈر محمد مختار کو ماہانہ لاکھوں روپیہ دیکر بہار اور یوپی سے کم ریٹ پر ورکرس لاکر کام کرارہے ہیں کیونکہ سرکاری ریٹ کے حساب سے ہر کام کرنے والے ورکرس کو 619 روپیہ ملنا چاہئے لیکن کنٹراکٹر بیرونی ورکرس کو محض 200 سے 350 روپیہ دیکر وہی کام کرارہے ہیں۔ شمیم انصاری نے اگے کہا کہ وہ جلد ہی اس ضمن میں ریاستی وزیراعلیٰ ممتابنرجی اور وزیر لیبر سمیت دیگر اہم شخصیات کو لیٹر دینے والے ہیں تاکہ مٹیابرج کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو دور کیا جاسکے اور یہاں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار حاصل ہوسکے دوسری جانب سے پورے احتجاج کو انٹک لیڈر محمد مختار نے سستی شہرت حاصل کرنے والا ڈرامہ قرار دیا۔ انہوں نے شمیم انصاری ہی کو کٹہرے پر کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ حاجی ہیں تو سچ بولیں کہ خود انکے بیٹے جو کمپنی میں کنٹراکٹر بنے ہوئے ہیں وہ کتنا روزانہ ورکرس کو ادا کررہے ہیں اس کے بعد کسی پر الزام تراشی کریں۔ محمد مختار نے زور دیکر کہا کہ انکی یونین کے صدر شمس الزاماں انصاری ہیں ۔انہوں نے تو مجھ پر کبھی الزام تراشی نہیں کی کیونکہ وہ پہلے ہی سے ریاستی سطح پر پہچانے جاتے ہیں ۔اگر وہ مجھ پر اس قسم کا بہتان لگادے تو میں کمپنی کی یونین ہی نہیں بلکہ سرگرم سیاست ہی چھوڑ دونگا۔ محمد مختار نے مزید کہا کہ شمیم انصاری مجھے بدنام کرنے میں مشغول ہیں کہ میں کنٹراکٹروں سے پیسہ لیا کرتاہوں لیکن انکے بدنام کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ۔ ابھی گزشتہ سال ہی وہ ایک کنٹراکٹر کو دھونس جماکر 2 لاکھ روپیہ مانگنے کے الزام میں پولس نے انہیں پکڑا تھا اور کئی دنوں تک حوالات میں بھی رہے ۔محمدمختار نے زور دیکر کہا کہ شمیم انصاری جو حاجی بنتے ہیں۔ابھی کچھ ماہ قبل ہی ایک کنٹراکٹر کی رقم سے اپنی پوری فیملی کے ہمراہ فلائٹ سے ممبئی گھومنے گئے تھے اور وہاں کی عالیشان ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اس کا ثبوت بھی میرے پاس موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کے سپرد کردیا جائے گا ۔محمد مختار نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں مقامی لوگوں کو روزگار اور دیگر سہولیات کےلئے کتنا متحرک رہتا ہوں اس کا ثبوت ریاستی ترنمول حکومت کے اشارے پر ہونے والے پولس میں میرے خلاف ایف آئی آر ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.