Take a fresh look at your lifestyle.

وشو بھارتی یونیورسٹی میں جیل جیسا ماحول ٹیگور فیملی کے لوگوں کی وزیراعلیٰ سے مدد کی اپیل

کولکاتا،12،ستمبر:شانتی نکیتن میں دیوار کھڑی کرنے کے تنازعہ پر اب وشوا بھارتی کی بنیاد رکھنے والے شاعر گرو ربندر ناتھ ٹیگور کے لواحقین کا بیان بھی آگیا ہے۔شاعر گرو کے اہل خانہ سمیت بہت سے معروف افراد نے وشوا بھارتی یونیورسٹی کے عہدیداروں کے خلاف مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں وزیر اعلیٰ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ صدیوں قدیم ورثہ کو سنبھا لیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس تک رسائی روک سکتی ہے۔مصور نندلل بوس کے اہل خانہ کے ممبر سمیت 40 مشہور شخصیات نے یہ خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ شانتی نکیتن کے بہت سے علاقوں میں بنائے گئے اونچی دیواروں اور ‘جیل نما ماحول’ کے پیش نظر ، خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے جس سری نیکیتن گاو¿ں کا خواب دیکھا تھا ، وہ وشو بھارتی کے ساتھ جڑ جائے گا۔ تین کلومیٹر لمبی سڑک بھی عوام کےلئے بند کردی جائے گی اور اس کی جگہ پر ایک نئی سڑک بنائی جائے گی۔ بنگلہ زبان میں لکھا گیا یہ خط ہے۔اس پرانے حصے کی طرف سے آٹھ سے نو فٹ اونچی اس دیوار کی تعمیر تکمیل کے قریب ہے جہاں امرتیہ سین ، کشیٹی موہن سین اور نندلال بوس جیسے اسکالرز کے گھر بھی موجود ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر شانتی نیکیتن اور سرینکتین کے مابین نقل و حرکت کے لئے کوئی متبادل راستہ بنایا جائے گا تو پھر وشوا بھارتی یونیورسٹی کے عہدیدار اس پرانے راستے کو روکیں گے کیونکہ یونیورسٹی کے عہدیدار ایسے منصوبے یکطرفہ طور پر چلا رہے ہیں اور اس پر اعتراض ہونے کے باوجود وہ لوگ اس پر توجہ نہیںدے رہے ہیں تاہم اس بابت وشو بھارتی کے عہدیداروں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments are closed.